اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ/چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شازیہ مری نے کہا ہے کہ سندھ کے ساحلی علاقے سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کو طوفان کے خطرات کا سامنا ہے، صوبائی حکومت مسلسل صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے، سندھ حکومت سنجیدگی سے اپنے لوگوں کو طوفان سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، طوفان کے پیش نظر 80 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، دور دراز کے علاقوں کیلئے موبائل یونٹس جولائی میں کام شروع کر دیں گے تاکہ وہاں کے عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے، سابق حکومت نے چار سال میں اتنے قرضے لئے جتنے 70 سال میں بھی نہیں لئے گئے، ماضی میں کچھ لوگوں نے بی آئی ایس پی کے خاتمہ کیلئے کوششیں کیں مگر ناکام رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سندھ، بلوچستان خطرے کا سامنا کر رہے ہیں، سندھ انتظامیہ نے سمندری طوفان کے برے اثرات سے لوگوں کو آگاہ کر دیا ہے اور لوگوں کی حفاظت کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سنجیدگی سے اپنے لوگوں کو طوفان سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، طوفان کے پیش نظر 80 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، سندھ کے ساحلی علاقے سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کو طوفان کے خطرات کا سامنا ہے، صوبائی حکومت مسلسل صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے اور سندھ کے عوام کو بار بار ہدایات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہائی الرٹ ہے، سائن بورڈز ہٹا رہے ہیں، اگر انتظامیہ نے سختی نہ کی تو شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے، سمندری طوفان کے حوالے سے آنے والے دن بہت اہم ہیں اس لئے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں یہ وقت کی ضرورت ہے، جس دن سمندری طوفان شدت اختیار کرے گا اس دن شہری لوگ بھی گھروں رہیں جس کیلئے ضروری تدابیر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ برابری اور مزدور کی بات کی ہے، بی آئی ایس پی کا آغاز 2008ء میں کیا گیا جس کا خواب شہید بے نظیر بھٹو نے دیکھا تھا، ان کی شہادت کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے اس پروگرام کی بنیاد رکھی، 2010ء میں اس کا بل آیا اور اس کو ایکٹ بنا کر قانونی شکل دے دی گئی، اب اس پروگرام کو 15 سال ہو چکے ہیں، یہ پروگرام غیر سیاسی پروگرام تھا اسی لئے یہ قائم د دائم ہے، کوشش ہے کہ اس پروگرام کو آگے تک لے جائیں، بی آئی ایس پی کے تحت 90 لاکھ خواتین اس پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، اس پروگرام کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، اس پروگرام سے غریب اور نادار لوگ مستفید ہو رہے ہیں، بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کیلئے سہ ماہی بنیادوں پر اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح بے نظیر کفالت پروگرام میں بھی اضافہ ہو گا اور آنے والے مالی سال میں 9.3 ملین خواتین اس پروگرام کا حصہ ہوں گی، ہم نے جس وقت یہ پروگرام شروع کیا تھا اس وقت 7.7 ملین خواتین اس پروگرام کا حصہ تھیں، آئندہ مالی سال میں اس پروگرام میں 20 فیصد اضافہ کر رہے ہیں، بے نظیر نشوونما پروگرام کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، اس پروگرام سے بچے اور مائیں استفادہ کر سکتے ہیں، 477 سہولتی سنٹر تحصیل کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے جہاں پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے وہاں پر رجسٹریشن کیلئے موبائل یونٹ تیار کیا ہے، جولائی سے موبائل یونٹ کام شروع کر دے گا، اسی طرح اندرون سندھ کے ریگستانی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں موبائل یونٹ کو بھیجیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بے نظیر پروگرام کے تحت سیلاب زدہ لوگوں میں 25، 25 ہزار روپے فی خاندان تقسیم کئے گئے جس پر وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، انہوں نے جتنا قرضہ اپنے دور حکومت میں لیا اتنا 70 سال تک نہیں لیا گیا، گذشتہ حکومت نے پاکستان کو قرضوں میں ڈبو دیا ہے، موجودہ حکومت نے ملک کو بہتری کی راہ پر گامزن کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ عوام سے ہمدردی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کر رہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک عوامی پارٹی ہے، بجٹ میں بیت المال کے صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، اس حوالہ سے ایم ڈی بیت المال بعد میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں فاٹا اور پاٹا کو ایک سال کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا ہے، اس معاشی بحران میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان اور بارشوں کے حوالے سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ پورے آپریشن کو مانیٹر کر رہے ہیں، حکومت سندھ جو ہدایات دے رہی ہے اس پر ضرور عملدرآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال اگست میں پارلیمنٹ کی مدت ختم ہو رہی ہے، ہم الیکشن کی تیاری میں ہیں اور لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں











