اسلام آباد،19جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کے بجٹ پر عام بحث اختتام پذیر ہوگئی۔ اس دوران ارکان نے مشکل ترین حالات میں بجٹ کو متوازن قرار دیا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ سے ان کی مشکلات کم ہوں گی تاہم ڈیڑھ سو فیصد خصوصی الائونس لینے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ غیر ضروری ہے،زراعت پر توجہ دے کر ملک کو خودانحصار بنایا جاسکتا ہے،خواتین کی ملازمتوں میں کوٹہ 10 فیصد کیاجائے۔
پیر کو قومی اسمبلی آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن وحید عالم خان نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اچھا اقدام ہے،کم سے کم ویجز 32 ہزار،ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کیا گیا، ہر طبقہ کے لئے بجٹ قابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کے لئے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دی جانی والی سبسڈی بند کی جائے،یہ مستحق افراد میں تقسیم کی جائے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے اخوت کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا عام آدمی کو ریلیف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ نظریہ پاکستان ہے۔گزشتہ دور بنائے گئے بیانیے ٹوٹے ہوئے پیمانے کی طرح ہیں۔ 24 کروڑ کا ملک اور اتنا بڑا ملک ڈیفالٹ نہیں ہوسکتا، ایسی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن قادر خان مندوخیل نے کہا کہ گریڈ 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 35 فیصد اضافہ بھی زیادہ نہیں ہے،پنشروں کی پنشن میں 17 فیصد اضافہ بھی کم ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والے تین ہزار ماہانہ بھی کم ہیں،سندھ کے سیلاب متاثرین کو 100 ارب روپے میں سے اکثریتی رقم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 89 فیصد گیس سندھ سے پیدا ہوتی ہے لیکن ہمارے حلقوں میں گیس نہیں۔انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ کے لئے 17 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،اتنی رقم سندھ حکومت دے سکتی ہے۔ہم نے ایک کٹھ پتلی حکومت کو چلتا کیا۔انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹائون میں یوٹیلٹی سٹور کھولا جائے،صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہیں ہم سے کئی گنا زیادہ ہیں،اسلام آباد میں 20 ہزار روپے تنخواہ پر خواتین کام کرہی ہیں،نادرا میں ہزاروں افراد کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں ان کو ریگولر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔مسلم لیگ (ن) کی رکن طاہرہ بخاری نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،پاکستان کے قومی ہیروز کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تباہ حال معیشت کا درست راستے پر ڈالنے کا مشکل چیلنج ہمیں درپیش ہے،مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا موجودہ حکومت نے ملازمین کو بھرپور ریلیف دیا۔ خواتین کے ملازمت کوٹہ کو بڑھایا جائے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن شہناز بلوچ نے کہا کہ اختر مینگل کے 6 نکات پر 25 فیصد عمل نہیں ہوا۔گوادر کو ترقی اور سہولیات دی جائیں۔بلوچستان میں غربت اور پسماندگی ہے، بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے،وہاں تعلیم کم ہے،وسائل کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پاس پاکستان کو سنبھالنے کے وسائل موجود ہیں،پاکستان کے حالات بہتر بنانے کے لئے کس چیز کی کمی ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اس سسٹم میں بھی خرابیاں ضرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال کے لئے تمام اختلافات بھلاکر مل بیٹھ کر مسائل حل کریں، نرسوں کی تعداد بڑھائی جائے۔
تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ نے کہا کہ ہر حکومت گزشتہ حکومت کو مسائل کا ذمہ دارقراردیتی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اچھا اقدام ہے تاہم جن کو ڈیڑھ سو فیصد ایگزیکٹو الائونس ملا ہے ان کی تنخواہوں میں اس قدر اضافہ کی ضرورت نہیں تھی۔ غریب آدمی کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔زراعت کے علاوہ تمام شعبے خسارے میں گئے زراعت میں ڈیڑھ فیصد نمو ہوئی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں فصلیں کاشت نہیں ہوئیں، زراعت ترقی کا راستہ ہے،زرعی ترقیاتی بینک کو کمرشل کرکے ظلم کیا گیا، اس کو کاشتکاروں کے لئے غیر منافع والا ادارہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر انڈسٹری کو مراعات دی گئی ہیں،50 ہزار ٹیوب ویلز سولر پر منتقل کرنے سے کاشتکار کو کیا فائدہ حاصل ہوگا اس بارے میں وضاحت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کے لئے بیج،کھادیں اور بجلی سستی ہو تو وہ اناج کے انبار لگا دیں گے۔آئی ایم ایف کبھی خودمختار اور خودکفیل نہیں بننے دے گا،قرض لینا بند نہیں کریں گے تو خودانحصار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ باہر سے پرتعیش چیزوں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے تحقیق اداروں کی اربوں روپے کے بجٹ ہیں، انہوں نے کون سا بیج پیدا کیا ہے، افسروں کی عیاشیاں بند کی جائیں۔ تھل کے کاشتکاروں سے لی جانے والی زمینوں کے بدلے کچھ نہیں دیا گیا، اس کا خیال کیا جائے۔شہباز شریف بھکر کے عوام سے میڈیکل کالج کا وعدہ پورا کریں،تھل موٹر وے براستہ بھکر بنائی جائے۔تھل میں فری انڈسٹریل زون بنایا جائے۔سرائیکیوں کے ساتھ صوبے کے نام پر ہر ایک نے دھوکہ کیا۔سرائیکی عوام کے لئے الگ صوبہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے،جمہوری قوموں میں مسائل کا حل الیکشن ہیں بدقسمتی سے یہاں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اداروں کی توقیر ہوگی ملک کی ترقی ہوگی۔ ایک دوسرے کے ساتھ بات کریں،سیاست کو دشمنی نہ بنائیں،خوشامد کے کلچر سے باہر نکلیں۔
مسلم لیگ (ن) کی رکن ثمینہ مطلوب نے کہا کہ معاشی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے متوازن بجٹ پیش کیا۔ملک کو قرضوں سے نجات اور ترقی کے راستے پر گامزن کرنا حقیقی آزادی ہے۔پاکستان کو درپیش مشکلات دور کرنی ہیں۔











