اسلام آباد،20جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان نے مشکل اقتصادی حالات میں بجٹ کو متوازن اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو ایک سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا،وہ اقتدار میں ہوتے تو پاکستان اقتصادی اعتبار سے ایشیائی ٹائیگر ہوتا۔
منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیر فضل علی شاہ جیلانی نے کہا کہ پاکستان اللہ کی نعمت ہے، جسے ہر نعمت، ہر موسم سے نوازا ہے، پاکستان وسائل سے مالامال ہے بس نیک نیتی کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک سے وفادار ہوں تو ایسا کوئی ملک نہیں، جس دن پاکستانی معیشت سود سے پاک ہوجائے گی، ہم ترقی کریں گے، امیروں کو قرضے معاف کئے جاتے ہیں اور محنت کش کا قرضہ فصل ضائع ہونے پر بھی معاف نہیں کیا جاتا، غریبوں کے زرعی قرضوں پر سود ختم کیا جائے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن صلاح الدین ایوبی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اتحادی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنایا ہے، چار سال کا گند صاف کیا، معاشی و اقتصادی تباہی اورڈیفالٹ کے خطرات سے پاکستان کو نکالا، ملک میں مہنگائی کی بنیاد گزشتہ حکومت نے رکھی، ہم قوم کو اس حوالے سے اس کی تباہ کاریوں سے عوام کو آگاہ کرتے رہے، قلعہ عبداللہ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن سید جاوید علی شاہ جیلانی نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے،18 لاکھ گھر سندھ میں تباہ ہوئے،اس کی تعمیر نو کے لئے وفاق کی امداد کی ضرورت تھی۔انڈس اور مہران ہائی ویز کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں،آمر جب آتے ہیں تو اپنی من مانیاں کرتے ہیں۔گزشتہ دور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا۔سندھ میں کھجور،کپاس کی فصل تباہ ہوئی۔ان کی بحالی میں مدد کی جائے۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن رائو محمد اجمل نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بنک کو کمرشل بنک بنادیا گیا،سود کو دس فیصد سے کم پر لایا جائے۔50 ہزار ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لئے 30 ارب روپے کم ہیں۔کسان کو تین سال کے لئے سولر پر ٹیوب ویل چلانے کے لئے بلا سود قرض دیا جائے،زرعی تحقیق کے اداروں کو فعال بنایا جائے۔کھالوں کی پختگی پر توجہ دی جائے،نواز شریف دور میں کسانوں کو سستی بجلی دی گئی۔ڈی اے پی پر سبسڈی دی گئی، اوکاڑہ زرعی پیداوار میں سب سے آگے ہے وہاں انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں لایا جائے۔پی ڈی ایم دوبارہ کامیاب ہوکر یہاں آئے گی تو ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے رکن سید حسین طارق نے کہا کہ موجودہ بجٹ بھی معمول کی طرح کا ہی ہے،ہماری بدقسمتی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت نہ دے سکے۔بجٹ میں اصلاحات کی توقع تھی کہ ایک سمت کا تعین ہوسکے گا۔سٹیٹ بینک کے منافع میں تین گنا اضافہ کیا گیا جو ممکن نہیں۔سیونگ کے جو اہداف رکھے گئے وہ پورے نہیں ہوسکیں گے۔نجکاری کے لئے 15 ارب روپے کا ہدف کہاں سے پورا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوام کے لئے ریلیف اور ملک کے لئے سمت کے تعین کا ذریعہ ہوتا ہے۔سرکلر ڈیٹ کے مسئلہ سے نکلنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
پیپلز پارٹی کے رکن میر غلام علی تالپور نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے تین حکومتوں کا واسطہ ہوگا۔موجودہ حکومت کی جانب سے یہ بجٹ لایا گیاہے،اس کی مدت پوری ہونے پر نگران حکومت اور نئے انتخابات کے بعد نئی حکومت اقتدار سنبھالے گی۔انہوں نے کہا کہ قوم مزید کسی 9 مئی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔اس کے ذمہ داروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ اسحاق ڈار سے زیادہ باصلاحیت وزیر خزانہ کوئی نہیں ہے،مشکل وقت میں اقتصادی ٹیم نے اچھا بجٹ دیا،بدین اور حیدر آباد میں یونیورسٹیاں بننی چاہئیں۔ نواز شریف نے سکھر ملتان موٹروے بنایا،1991 کا پانی کا معاہدہ کیا،گرین بس دی۔کراچی کو ڈاکو راج سے نجات دلائی۔سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا وزیر اعظم نے کئی بار دورہ کیا،ایک ہفتہ میں بجلی بحال کی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو ہمیشہ سازش کرکے اقتدار سے نکالا گیا۔وہ پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانا چاہتے تھے۔پاکستان کوجوہری قوت بنایا۔نواز شریف سے ناانصافی ہوئی ہے۔اس کے تمام کردار بے نقاب ہوئے۔نوازشریف پھر وزیر اعظم بنے گا۔ہمیں اختلافات کرنے چاہئیں لیکن میثاق جمہوریت کو بھی آگے لے کرجانا ہوگا۔شہباز شریف نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے دن رات ایک کردیا ہے ، سب کو ساتھ لے کرچل رہے ہیں۔











