پشاور، 28جون(اے پی پی): چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین ضرور پلوائیں، کیونکہ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے انسداد پولیو قطرے ہر بچے کو پلائے جانے ضروری ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس آج ہیلتھ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر آصف رحیم نے اجلاس کو بریفنگ دی اور گزشتہ مہمات کی کارکردگی سمیت جاری انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم 19 جون سے مخصوص اضلاع میں جاری ہے، جسمیں سات دیگر اضلاع بشمول نوشہرہ، پشاور، مہمند، ہنگو، خیبر، کوہاٹ اور چارسدہ میں 22لاکھ 12ہزارسے زائد بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے۔ اسطرح ضلع بونیر، لوئر چترال، لوئر دیر، ہری پور، مانسہرہ، مالاکنڈ، مردان اورصوابی میں مہم جزوی طور پر چلائی جا رہی ہے۔
بریفنگ کیمطابق افغان مہاجر کیمپوں اور پاک افغان سرحد پر واقع مخصوص یونین کونسلوں میں مجموعی طور پر1لاکھ 7ہزار بچوں کو پولیو سے بچاوٗ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسداد پولیو کی اس مہم کیلئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی 8441ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیو ٹیموں میں 7721 موبائل ٹیمیں، 542فکسڈ اور 478 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ ان ٹیموں کی موثر نگرانی کیلئے 2,083 ایریا انچارجز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔
دوسری جانب ٹیموں کی موثر سکیورٹی کیلئے تقریباً 14,926 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔
بریفنگ کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ فیک فنگرمارکنگ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انسداد پولیو مہمات میں کمیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے انکے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے انکار کو دیگر مطالبات کے حل کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔
چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ حکومت کی جانب دی جانے والی مختلف خدمات بشمول یوٹیلیٹی سروسز کو پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کے لئے سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی جائینگی۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین ضرور پلوائیں، اور اس سلسلے میں علمائے کرام، نمایاں شخصیات اور معاشرے کے تمام طبقات پولیو کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔











