مضر صحت میٹھے مشروبات پر ٹیکس کا نفاذ ، پناہ نے پارلیمینٹیرینز کو شیلڈز پیش کر دیں

20

اسلام آباد،21 جولائی(اے پی پی): آج ہم انسانی جانوں کو بچانے کے لیے قانون سازی میں کرادار ادا کرنے والے اسٹیک ہولڈرز اور چیمپین پارلیمینٹیرینز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ بیماریوں میں کمی کے لیے ان چیمپینز کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہ بات پناہ کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں کہی گئی جس میں ان اسٹیک ہولڈرز اور پارلیمینٹیرینز کو شیلڈز دی گئیں جنہوں نے مضر صحت میٹھے مشروبات کے صحت پر ہونے والے نقصانات کی وجہ سے 2023-24ءکے بجٹ میں ان پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کرادار ادا کیا تاکہ ان مشروبات کے استعمال میں کمی آئے۔

پروگرام کا انعقاد اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا، تقریب کے مہمان خصوصی پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمان کیانی تھے، ایم این اے ڈاکٹر نثار چیمہ کو چیمپین پارلیمینٹیرین کا ایوارڈ دیا گیا۔ جن لوگوں کو شیلڈز دی گئیں ان میں محکمہ صحت کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو، ایم این اے ڈاکٹر ثمینہ مطلوب، ایم این اے مس وجیہ قمر، ایم این اے زہرہ ودود فاطمی، ایم این اے خورشید احمد جونیجو، ایم این اے رمیش لال، ایم این اے رومینہ خورشید عالم، ایم این اے مسرت رفیق، نیشنل کوآرڈی نیٹر نیوٹریشن اینڈ این ایف اے ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد، ڈائریکٹر پلاننگ وزارت قانون، انصاف محمد جاوید، سینئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ منیراحمد، کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد حسین، قومی اسمبلی سے محمد اشفاق اشرف، ایڈیشنل سیکرٹری ( لیجسلیشن) محمد مشتاق، سیکرٹری وفاقی محتسب ٹیکس ثروت طائرہ حبیب، نیشنل کمیشن دی رائٹس آف چائلڈ کی سابق چیئر پرسن افشاں تحسین باجوہ، فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ ،خیبرپختونخواہ سے ایمبیسیڈر پناہ امجد علی خان یوسفزئی، کرنل شکیل حمد مرزا، ڈاکٹر واجد علی اور گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی کے کنسلٹنٹ منور حسین شامل تھے۔

  تقریب میں  ماہرین صحت، سول سوسائٹی، علماءکرام اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تقریب کی میزبانی پناہ کے جنرل سیکرٹری ثناءاللہ گھمن نے کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مسعودالرحمن کیانی نے کہا کہ پناہ گزشتہ چالیس برسوں سے اپنے ہم وطنوں کو دل اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کے لیے کوشاں ہے، آج ہمارے لیے بہت مسرت اور اطمینان کا موقع ہے کہ ہماری آواز میں آواز ملانے والوں میں عام آدمی سے لے کر سول سوسائٹی، حکومت کے اعلیٰ عہدیداران اور ملک کے سب سے بالا ایوان میں بیٹھے ہمارے قانون ساز بھی شامل ہیں، آج میں ان تمام اسٹیک ہولڈرز اور پارلیمینٹیرینز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے قومی مفاد کی اس کاز میں اپناہ حصہ ڈالا۔

ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ لوگوں کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے،پناہ نے لوگوں کی صحت کے لیے ہر فورم پر جس طرح آواز بلند کی ہے وہ قابل تحسین ہے اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس قومی مفاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔

پناہ کے سیکرٹری جنرل ثناءاللہ گھمن نے کہا کہ ہم چاردہائیوں سے لوگوں کو دل اور متعلقہ بیماریوں سے بچانے کے لیے آگاہی دے رہے ہیں لیکن ہم نے وقت کے ساتھ سیکھا ہے کہ اگر آگاہی کے ذریعے ایک جا ن بچائی جا سکتی ہے تو پالیسی کے ذریعے لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اسٹیک ہولڈرز اور پارلیمینٹیرینز نے پناہ کی خدمات کی تعریف کی اور بیماریوں سے بچانے اور ضروری قانون سازی کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

آخرمیں ڈاکٹر عبدالقیوم اعوان نے مہما نوں کا شکریہ ادا کیا اور ان پارلیمینٹیرینز اور اسٹیک ہولڈرز کے کردار کو سراہا جنہوں نے لوگوں کے صحت کے لیے قانون سازی میں اپنا حصہ ڈالا۔