چنیوٹ؛ ڈپٹی کمشنر کا  ممکنہ سیلابی صورتحال کے سلسلہ میں مختلف علاقوں کا دورہ ، انتظامات کا  جائزہ لیا

46

چنیوٹ، 10جولائی (اے پی پی):دریائے چناب چنیوٹ میں پانی کی مقدار میں مسلسل اضاضہ ہو رہا ہے۔شام 4 بجے چنیوٹ کے مقام پر پانی کا بہاو83121 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ جو کہ شام تین بجے 70292 کیوسک تھا۔

ڈپٹی کمشنر چنیوٹ کے مطابق دو لاکھ کیوسک پانی کا سیلابی ریلا چنیوٹ سے گزرے گا، دریائے چناب میں سیلاب کا خدشہ ہے  جس کے لئے ہائی الرٹ جاری کردیا گیا  ہے ،ریسکیو 1122 کی جانب سے مختلف علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر محمد آصف رضا  نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے سلسلہ میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے دریائی علاقہ برج عمر کا دورہ کیا اور دریائے چناب میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔انہوں نے موضع بابورائے، قاضیاں، دھسری،چھنی خیر شاہ، متھرومہ،ہرسہ بلہ،ساہمبل،ٹھٹہ ناہرا،محمدی شریف۔بھوانہ اور لالیاں کے علاقوں و فلڈ ریلیف کیمپس کا بھی دورہ  کیا۔

ڈپٹی کمشنر نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو سیلابی پانی کے نقصان سے بچنے کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ انکا کہنا تھا کہ نشیبی علاقوں کے مکین اپنا قیمتی سازوسامان، مال مویشی محفوظ مقام پر منتقل کریں ۔انہوں نے ہرسہ شیخ،متھرومہ میں ریسکیو1122، ییلتھ، لائیو سٹاک و دیگر محکموں کی جانب سے قائم کیے گئے فلڈ ریلیف کیمپس کا بھی دورہ کیا۔

ڈپٹی کمشنر نے محکموں کو فلڈ ریلیف کیمپس پر مزید وسیع انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی فلڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا اور متعلقہ محکموں کے اہلکاران کی حاضری کو چیک کیا۔

 اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر چنیوٹ محمد آصف رضا کا کہنا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام محکمے اپنی تیاری مکمل رکھیں، تمام محکمے چوکس ہو کر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع بھر میں 9 فلڈ ریلیف کیمپس فنگشنل کر دیے گئے ہیں، برج عمر کے مقام پر دریائے چناب میں 70 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے، اگلے 48 گھنٹوں میں چنیوٹ سے تقریبا 2 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، چند گھنٹوں تک دو لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا چنیوٹ سے گزرے گا۔

ڈپٹی کمشنر نے تمام نزدیکی آبادیوں کے افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی ہدایات جاری کیں۔