گلگت ۔ 27جولائی(اے پی پی): چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں 18 سال کے طویل عرصے کے بعد نومبر 2023 میں جماعت بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات ہونگے۔ جمعرات کے روز گلگت میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی مخالفت اور انتخابات کے خلاف عدالت جانے سے ہوئی ہے، اب نئی حکومت نے اپنے پہلے کابینہ کے پہلے اجلاس نے میں اس کی منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات، لوکل باڈیز الیکشن ایکٹ 2014 کے تحت ہوں گے۔چیف الیکشن کمیشنر نے کہا کہ گلگت اور بلتستان میں جہاں شہری آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے وہاں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے لیے انتخابات ہوں گے جبکہ ایک لاکھ کی آبادی کی شہری آبادیوں میں میونسپل کارپوریشنز اور 50 ہزار تک کی آبادی کے لیے میونسپل کمیٹیاں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات میٹرو پولیٹن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹیز، تحصیل کونسل، ڈسٹرکٹ کونسل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے لیے ہوں گے، جن کے لیے حد بندی اور حلقہ بندیوں کا عمل پندرہ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ راجا شہباز نے مزید کہا کہ ان انتخابات کو منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے تمام جماعتوں اور سول سوسائٹی سے مل کر کام کریں گے، بلدیاتی نظام بحال ہونے سے سیاسی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی اور عوام کو اپنے دہلیز پر مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس سے قبل انتخابات 1979 کے ایکٹ کے تحت ہوتے تھے، اب نئے نظام سے بڑے شہری اداروں کا قیام عمل میں آئے گا اور پہلی بار میئر اور ڈپٹی میئر کے لیے انتخاب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو الیکشن کمیشن نے متعدد بار بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے رابطے کیے مگر انہوں نے لوکل باڈیز ایکٹ بنانے کے لیے کروڑوں خرچ کر کے سونی جواری کے نام پر ادارہ بنا کر کروڑوں خرچ کیے مگر آج تک اس ادارے نے لوکل باڈیز ایکٹ کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔











