بدین،10 اگست(اے پی پی): پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹر ایڈووکیٹ عامر فہد پراچہ اور ڈائریکٹر سندھ عدنان مجید کی ہدایات پر پاکستان بیت المال بدین کی جانب سے “تھلسیمیا سے پاک پاکستان” کے نام سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تھلسیمیا کے ماہر ڈاکٹر محمد عثمان کھٹی اور نثار احمد سومرو نے کہا کہ تھلسیمیا کا مرض کتنا خطرناک ہے یہ صرف وہ سمجھ سکتے ہیں جس کا بچہ اس مرض میں مبتلا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 60 ادارے ہیں جو تھلسیمیا کی روک تھام کے لئے کام کر رہے ہیں، لوگوں میں تھلسیمیا کے متعلق آگاہی دینے کے لئیے میڈیا کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بیماری کے پھلنے پر مکمل کنٹرول کر چکے ہیں، ان ممالک میں اب تھلسیمیا میجر کا کوئی بھی بچا پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ تھلسیمیا مائنر کوئی بیماری نہیں ہے لیکن یہ تھلسیمیا میجر کا بچہ پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 60 ہزار سے زائد بچے تھلسیمیا مرض میں مبتلا ہیں اور ہر سال 5 ہزار سے زائد بچے تھلسیمیا جیسے موضی مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک موروثی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے، اس مرض میں مبتلا بچوں کا جسم اپنا خون نہیں بنتا جس کے باعث بچوں کو بار بار خون کی ضرورت پڑتی ہے، ایسے بچوں کی زندگی عمومی طور پر 15 سال ہوتی ہے، اپنے بچوں کو تھلسیمیا سے بچاؤ کا ایک ہی حل ہے کہ شادی سے قبل مرد اور خواتین کی ہیموگلوبن الیکٹرو فوریسس ٹیسٹ کرائی جائے، اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے قانون بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے خاتمے کیلئے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
تقریب کے آخر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال بدین شنیل محی الدین بلیدی نے آنے والے تمام مہمانوں کو سندھ کی ثقافت اجرک کے تحائف پیش کئے، اس کے علاوہ بیت المال کی جانب سے جسمانی معذور عبدالقيوم کو ویل چیئر اور عطا محمد کو اور 20 ہزار روپے کا چیک بھی دیا گیا۔
تقریب میں ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسر سرفراز سمون، اسسٹنٹ پروفیسر عبدالحمید جونیجو ،سورمی ستھ کی رہنما عابدہ سمون، گل زرین، نجمہ انصاری اور دیگر شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔











