ملتان، یکم اگست(اے پی پی ):جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے کپاس کے کاشتکار ٹرپل جین کپا س کی اقسام میں پیرا کواٹ یا دیگر جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے صرف گلائفوسیٹ سپرے کا ہی استعمال کریں۔
یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے ادارہ ہذا میں فارمرزٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی آن لائن صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہی۔سی سی آرآئی ملتان میں ہونے والے اجلاس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی دیکھ بھال سے متعلق آئندہ پندرہ روزہ سفارشات15اگست تک کے لئے پیش کی گئیں۔
ڈائریکٹرسی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں میں کپاس کے کھیتوں میں جڑی بوٹیوں کی بہتات ہے اسی لئے ایسے کاشتکار جنہوں نے گلائفوسیٹ کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام(ٹرپل جین) کاشت کی ہیں تو وہ کھڑی فصل میں گلائفوسیٹ بحساب ایک لیٹر100لیٹرپانی کی مقدار میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں جبکہ روایتی اقسام کاشت کرنے والے کاشتکار گلائفوسیٹ سپرے کرتے وقت شیلڈ کا استعمال لازمی کریں۔انہوں نے کہا کہ متوقع بارش کی صورت میں کھیت سے بارش کے پانی کے نکاس کا فوری بندوبست کر لیں اور24گھنٹے کے اندر اندر بارش کا پانی کھیت سے لازمی باہرنکالیں، کاشتکار احتیاطی تدابیر کے لئے کھیت کے ایک کونے میں 4فٹ کا گہرا گھڑا کھود لیں تاکہ بارش کا پانی اس میں جمع ہو سکے اور اس کے نکاس میں آسانی ہو۔
ڈاکٹر زاہد محمود نے ہدایت کی کہ کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے وتر آنے پر گوڈی کریں، بارشوں سے پہلے پہلے کاشتکار جڑی بوٹیوں کے تدارک اور زرعی زہروں کا استعمال یقینی بنائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کھیت میں پانی کھڑا رہنے سے پودوں میں جھلساؤ اور مرجھاؤ کی بیماری پھیل سکتی ہے اس لئے پانی کا نکاس بہت ضروری ہے۔بارشوں کے بعد نمی اور گرمی بڑھنے سے کپاس کے رس چوسنے والے کیڑے خصوصاً سفید مکھی اور تھرپس کا حملہ بڑھا ہے جس کی وجہ سے کپاس کا کالا پن اور کہیں کہیں پر ٹیندوں کی سڑن کی بیماری بھی مشاہدے میں آ رہی ہے۔ایسی صورت میں کپاس کے کاشتکار ایزو آکسی سٹوبن اور ڈائی فینوکونازول کا مکسچر300گرام بحساب100لٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں سپرے کریں یا پھر فصل کے کالاپن کی صورت میں سلفر300گرام بحساب100لٹر پانی میں ملاکر فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں سپرے کریں۔
اجلاس میں کاشتکاروں کو مندرجہ بالا احتیاطی تدابیر ورہنمائی کے علاوہ اور بھی کئی تدابیر اور فصل کی زیادہ پیداوار کے حوالے سے تفصیل سے بتایا گیا ۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل، ڈاکٹر فیاض احمد، ڈاکٹر ادریس خان، میڈم صباحت، ڈاکٹر رابعہ سعید،ساجد محمود اور جنید خان ڈاہا سائٹفک آفیسر نے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ نواں اجلاس 16 اگست کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔











