پشاور،21 ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ دیر بالا سمیت ملاکنڈ ڈویژن سیاحتی و قدرتی خوبصورتی کے باعث ایک نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک کے افراد کیلئے بھی ایک پرکشش مقام کی حیثیت رکھتا ہے، قدرتی وسائل قدرت کا تحفہ ہیں جس کو بروئے کار لا کر بے روزگاری کا خاتمہ اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکتا ہے، میری ذاتی کوشش ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن سمیت تمام سیاحتی مقامات کو بطور صنعت دنیا بھر میں متعارف کرائیں اس کیلئے مقامی افراد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،مقامی افراد بالخصوص نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے صرف ایک کلک سے اپنے علاقے کی خوبصورتی و قدرتی حسن کو دنیا بھر میں متعارف کرائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عشیرئی درہ ضلع دیربالا سے سابق نگران صوبائی وزیرشفیع اللہ خان کی قیادت میں مختلف سیاسی جماعتوں، بلدیاتی نمائندوں اور مشران علاقہ پر مشتمل 35 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک بہرام خان، عارف اللہ خان، علی خان، وسیع اللہ، ملک بادشاہ دین،ملک ہارون، ملک شیرعلی، ملک نقیب اللہ، ملک محمود، ملک وارث خان، مولانا گل باچا، میاں نصیب زادہ، ملک نور محمد، ملک بخت روان، ملک اعظم، نیک برخان، محمدزادہ،گران خان، یوسف خان اوردیگر شامل تھے۔ وفد نے گورنر کو قو م سلطان خیل اور پائندہ خیل کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
وفد نے بعض محکموں کے اقدامات سے متعلق اپنے تحفظات اور غم و غصے کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ محکمہ جنگلات، آبپاشی، اور محکمہ معدنیات ہمارے اقوام کو پریشان کررہی ہے اور ہمارے اباواجداد کی زمینیں ہم سے لے رہی ہیں اور ہمارے جنگلات ہم سے چھینے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی 1976 میں اس مسئلے پرحکومت کیساتھ سرد مہری ہو چکی ہے اور ایکبار پھر سازشی عناصر ایسے حالت بنارہے ہیں،حکومت نے اس پسماندہ علاقے اور عوام کو آج تک کیادیاہے۔سیٹلمنٹ، جنگلات اورحدبرداری کے نام پر ہمارے گھر، درخت، کھیت ہم سے چھینے جارہے ہیں تو کیا ہم اپنا علاقہ اور ملک چھوڑدیں۔ ہم نے ہر موقع پر پاکستان کا دفاع کیا، کشمیرکے جہاد میں حصہ لیا لیکن آج اقوام سلطان خیل و پائندہ خیل کے تمام سیاسی جماعتوں اے این پی، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، پی پی پی، مسلم لیگ، منتخب بلدیاتی نمائندوں پر مشتمل جرگہ کا گورنرہاؤس آمد کا مقصد یہ ہے کہ گورنر کا تعلق بھی اسی برادری اور قوم سے ہے۔ بحیثیت گورنر آپ ہمارے احساسات اور جذبات کو حکومتی اداروں تک پہنچائیں تاکہ 1976 والاواقعہ پھر سے رونمانہ ہو۔ اگر حکومت کچھ نہیں دے سکتی، تو ہمارے گھروں کو ہم سے نہ چھینے، ہمارے بچوں کو رہائش کے حق سے محروم نہ کرے۔ ہماری زمینوں پرقبضہ کرنے سے بازرہیں ہمارے نوجوان، قوم سلطان خیل وپائندہ خیل کے مشران نے عہد کررکھاہے کہ ہم اپنی جانوں کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں لیکن ایک انچ زمین نہیں دیں گے۔ انہوں نے گورنرکاشکریہ ادا کیا کہ مصروفیات کے باوجودنہ صرف ملاقات کیلئے موقع فراہم کیا بلکہ اْن کی معروضات بھی توجہ سے سنیں۔
وفد نے گورنر کو دیربالا کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ گورنر نے وفدکے شرکاء کو گورنرہاؤس آمد پر خوش آمدید کہا اور انہیں یقین دلایا کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مسائل کے حل کیلئے بات کریں گے اور بہت جلد دیربالا کا دورہ بھی کریں گے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ وہ خود اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں،دیر ایک پرامن علاقہ ہے اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستان کے اداروں کا ساتھ دیا اور انکی خدمات آج بھی ملکی تاریخ میں موجود ہے، انہوں نے کہاکہ آپ ریاست کے باشندے ہیں اور ریاست پاکستان آپ کی بھرپور سرپرستی، معاونت کرے گی اور آپ سے کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت کاتقاضا ہے اور پورا پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور دیر کے اقوام سلطان خیل، پائندہ خیل جرگہ کا فرض بنتاہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پیارومحبت و ہم آہنگی کوفروغ دیں اور نفرتوں کا خاتمہ کریں اور آپس میں عزت واحترام کا رشتہ برقرار رکھیں۔پہلے دیر کامکین ہو، بعد میں گورنر اور گورنر کی حیثیت سے انشاء اللہ آپ کے مشکلات کاخاتمہ آپ کے توقع سے زیادہ کریں گے۔ پاکستان اور خیبرپختونخوا اوربالخصوص دیرکے عوام نہ صرف ہمارے بازو ہیں، بلکہ ریاست کے سپوت ہیں اور حکومت کبھی بھی ایسااقدام نہیں اٹھائے گی جس سے عوام کے مشکلات میں اضافہ ہو حکومتیں ہمیشہ عوام کی مشکلات کے خاتمے کی فیصلے کرتے ہیں۔
انہوں نے وفدکو کہاکہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے وہ تحریری شکل میں وزیراعلی، چیف سیکرٹری سمیت متعلقہ محکموں کے سربراہان کو بمعہ ثبوت ارسال کی جائیں۔ حکومت کافرض بنتاہے کہ عوام کی تکالیف کاخاتمہ کرے اور عوام سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کوترجیحات میں شامل کریں۔
علاوہ ازیں بلوچستان سے تاجربرادری پرمشتمل نمائندہ وفد نے میرمحمدزبیرجمال دینی، شاہ زمان خان بنگلزئی اور حاجی محمدآصف خان کاکڑ کی قیادت میں گورنر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تاجربرادری کو درپیش مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا گیا جس پر گورنرنے مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔دریں اثناء بشپ ہمفرے سرفراز پیٹر نے بھی گورنرسے ملاقات کی اورایڈورڈز کالج پشاور کی بہتری اور کالج میں تعمیراتی کام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ چارسدہ سے بہراللہ حقانی اور مولاناجمیل احمد کی قیادت میں نمائندہ وفد اور حاجی شاہد نور کی قیادت میں بھی ایک نمائندہ وفد نے گورنر سے الگ الگ ملاقات کی۔
وفودمیں سید سعیدالرحمن، فضل حکیم، علی رضا، سید ملوک، زین اللہ اور احمدشاہ شامل تھے۔ ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔بعدازاں آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرزفیڈریشن کے صوبائی صدر ملک نوید کی قیادت میں بھی ایک نمائندہ وفد نے گورنرسے ملاقات کی۔وفد میں سوار خان چیئرمین، بلال خان، وقار شاہ اوردیگر شامل تھے۔وفد نے گورنر کو درپیش مسائل سے آگاہ کیاجس پر گورنرنے مسائل کے حل کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔











