لاہور،7ستمبر (اے پی پی):میو ہسپتال میں ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن کا کام شروع کر دیا گیا،نگران وزیر اعلی ٰپنجاب محسن نقوی نے جمعرات کو یہاں ایمرجنسی بلاک کا دورہ کیا اور اپ گریڈیشن کے کام کا معائنہ کیا۔ پرانے ایمرجنسی بلاک کو اپ گریڈ کر کے تقریبا 200بستروں کا سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی بلاک بنایاجائے گا۔تعمیر وبحالی کے دوران ایمرجنسی کو عارضی طو رپر ٹی بی وارڈ میں شفٹ کیاجائے گا۔اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت ایمرجنسی بلاک کی لفٹ کو بھی فنکشنل کیاجائے گا۔
وزیراعلیٰ محسن نقوی نے محکمہ تعمیرات ومواصلات کو ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن جلد مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا۔ وزیراعلی محسن نقوی نے ایمرجنسی بلاک کی لیب اور پہلے فلور،دوسرے فلور،تیسرے فلور اور چوتھے فلور کا تفصیلی معائنہ کیا۔وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن میں اعلیٰ معیار اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لئے ضروری ہدایات دیں۔انہوں نے کہاکہ نئے ایمرجنسی بلاک کو جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہوناچاہیے۔
وزیراعلی ٰمحسن نقوی نے ایمرجنسی بلاک کی وائرنگ کو انڈر گرائونڈ کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ ڈاکٹرز رومز بہترین انداز میں فرنشنڈ ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ نے ایمرجنسی بلاک میں سیم زدہ دیواروں کے پائیدار حل کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے ٹی بی وارڈ کا بھی وزٹ کیا اور ایمرجنسی کو شفٹ کرنے کے حوالے سے انتظامات کاجائزہ لیا۔وزیراعلی ٰنے بیڈز پر گندی چادروں کو فوری طورپر تبدیل کرنے کاحکم دیا۔وزیراعلیٰ نے پولیس چوکی، زیر تعمیر ریڈنگ روم اور کیفے ٹیریاز کا بھی دورہ کیااور تعمیراتی سرگرمیوں کاجائزہ لیا۔
وزیراعلیٰ نے ریڈنگ روم میں تیز رفتار انٹرنیٹ لگانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ریڈنگ روم او رکیفے ٹیریاز کے تعمیراتی کاموں میں اعلیٰ معیار پر اطمینان کااظہارکیا۔محسن نقوی نے کہاکہ کیفے ٹیریا زمیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی معیاری اشیا مناسب نرخوں پر ملنی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ میو ہسپتال کے ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن کو جتنی ممکن ہوسکا مکمل کریں گے اور ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن کا خود جائزہ لوں گا۔
سیکرٹری تعمیرات ومواصلات نے ایمرجنسی بلاک کی اپ گریڈیشن، ریڈنگ روم اور کیفے ٹیریاز کے تعمیراتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر جاوید اکرم، سیکرٹری صحت، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات، وائس چانسلر کنک ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ایم ایس اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔











