اسلام آباد،20ستمبر (اے پی پی):وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ وفاقی محتسب پاکستان، کا محتسب کے بین الاقوامی اداروں میں بہت نمایاں کردار ہے،عالمی اداروں میں وفاقی محتسب کے کردار کو بہت سراہا جاتا ہے، پچھلے ہفتے ہی پاکستان کے وفاقی محتسب کوایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن (اے او اے) کا بلامقابلہ صدر منتخب کیا گیا ہے جو کہ پاکستان کے لئے اعزاز ہے، اس بارے میں اے او اے کی جنرل اسمبلی کا سترہواں اجلاس تاتارستان کے دارالحکو مت کازان میں منعقد ہوا جس میں اے او اے کے صدر کے علا وہ دیگر عہدیداران کا انتخاب عمل میں لا یا گیا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہاربدھ کو وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ میں ایک پر ہجوم پر یس کا نفر نس کے دوران کیا۔انہوں نے بتا یا کہ ایشین امبڈ سمن ایسو سی ایشن (اے او اے)ایشیا ء کے محتسبین کی ایک غیر سیا سی، آ زاد اور خود مختار تنظیم ہے جو دنیا کی دو تہا ئی آبا دی کی نما ئند گی کر تی ہے اور ایشیا ئی محتسبین کے47 ادارے اس کے رکن ہیں۔ اے او اے کا صدر دفتر وفا قی محتسب سیکر ٹیر یٹ اسلا م آ باد میں واقع ہے۔اے او اے کا قیام 15-16اپر یل 1996ء کو اسلا م آ باد میں منعقد ہ ایشیا ء کے محتسبین کی پہلی کا نفر نس کے دوران عمل میں آیا۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ قبل ازیں وفاقی محتسب باکو میں منعقد ہونے والے اے او اے کے اجلاس اور بنکاک میں انٹرنیشنل امبڈ سمین انسٹی ٹیوٹ (آ ئی او آ ئی)میں بھی پا کستان کی بھرپور نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب میں رواں سال کے دوران آج تک ایک لا کھ 33 ہزار سے زائد شکایات آ چکی ہیں جب کہ ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد شکایات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں، توقع ہے کہ اس سال کے اختتا م تک یہ تعداد ایک لا کھ 85 ہزار سے بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عملد رآمد کو یقینی بنا نے کے لئے عملد رآمد ونگ بنا یا گیا ہے۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے بتایا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ اپنے قیام سے لے کر آج تک گز شتہ چالیس برسوں کے دوران وفاقی سر کاری اداروں کی بد انتظا می کے خلا ف 19 لا کھ سے زائد شکایات کاا زالہ کر چکا ہے۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ محتسب کے اداروں کے قیام کا اصل مقصد عام لوگوں کے بنیا دی حقوق کی حفاظت اور تمام شعبہ ہائے حیات میں اچھی حکو مت کا قیام ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چھوٹے شہروں اور ملک کے دور دراز علا قوں میں کھُلی کچہریوں کا آغاز کیا گیا ہے، ہمارے19 علاقائی دفاتر تحصیلوں اور ضلعوں کی سطح پر کھلی کچہریاں لگا کر ملک بھر میں عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ اس سال اب تک 2030 شکا یات کھلی کچہر یوں کے ذریعے نمٹا ئی گئی ہیں۔ اسی طرح معائنہ ٹیمیں ترتیب دی گئیں اور ایسے ادارے جن کے خلاف شکایات زیادہ تھیں وہاں پر ہمارے سینئر افسران پر مشتمل ٹیموں نے دورے کرکے لوگوں کی شکایات سنیں اور موقع پرہی ہدایات جاری کیں نیز متعلقہ افسران سے میٹنگز کرکے نظام کی اصلاح کے لیے قابل عمل تجاویز دیں جس کے باعث دفتری طریقِ کارمیں بہتری کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہوگئے اور ان اداروں کے خلاف شکایات میں کمی آئی۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ پچھلے سال اپریل میں آئی آر ڈی (تنازعات کا روایتی حل) کا پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت فر یقین کی باہمی رضامندی سے غیر رسمی اور مصالحتی انداز میں اب تک لوگوں کے2379 تنازعات حل کئے گئے ہیں۔
وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے بتایا کہ ہم نے 90 لاکھ کے لگ بھگ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے باقاعدہ ایک ”شکایات کمشنر“ مقرر کر رکھا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرکے ان کے مسائل حل کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہم نے ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ”یکجاسہولیاتی ڈیسک“ قائم کر رکھے ہیں جہاں 12 متعلقہ اداروں کے ذمہ داران ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے موجود ہوتے ہیں اور موقع پر ہی شکایات کا ازالہ کرتے ہیں، اس سال بیرون ملک پا کستا نیوں کی کل121,545 شکا یات پر کا رروائی کی جا چکی ہے۔











