اوکاڑہ یونیورسٹی میں تین روزہ نینومیٹریلز کانفرنس کا دوسرا دن، بین الاقوامی محققین کے مقالہ جات ولیکچرز جاری

35

اوکاڑہ،4 اکتوبر(اے پی پی): اوکاڑہ یونیورسٹی میں جاری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ممالک سے آئے ہوئے سائنسدانوں کی جانب سے لیکچرز اور مقالہ جات پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کانفرنس سنٹر فار نینو سائنس ،شعبہ فزکس، ہائیرایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے منعقد کی جاری ہے اور اس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد کر رہے ہیں، کانفرنس کی انتظامی کمیٹی میں یونیورسٹی کے ایڈیشنل رجسٹرار جمیل عاصم اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مصباح اللہ شامل ہیں۔

 کانفرنس کے دوسرے روز کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس چیئر اورسنٹر فار نینو سائنس کی ڈائریکٹر ڈکٹر شہلا ہنی نے بتایا کہ یہ کانفرنس فزکس اور اس کی مختلف شاخوں میں ہونے والی جدید تحقیق پہ بحث کرنے اور اس کو بروئے کار لاکر معاشی و معاشرتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کی ایک کاوش ہے۔

کانفرنس سے جنوبی افریقہ سے آئے ہوئے معروف سائنس دان پروفیسر ڈاکٹر کے ڈی موڈی بین نے بھی خطاب کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہم نینو میٹریلز کو استعمال کر کے موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔

جنوبی افریقہ سے ہی آئے ہوئے ایک اور محقق، پروفیسر میلک مازہ نے بتایا کہ نینو ٹیکنالوجی میڈیکل کے شعبہ میں انقلابی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر کرسٹوفر کا کہنا تھا کہ نینو ٹیکنالوجی سے مزید موثر اور تیزتر الیکٹرانک مصنوعات بنائی جا سکتی ہیں جو کہ انسانی زندگی کا آسان بنانے کے کام آئیں گی۔ کانفرنس کے دیگر مقررین میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پروفیسر ڈاکٹر احسن مظہر اور ڈاکٹر وسیم عباس، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورسے ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد عاطف یعقوب اور ڈاکٹر محمد سرور، آزاد جموں و کشمیر سے ڈاکٹر جاوید اقبال اور ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر خواجہ امتیاز شامل تھے۔

تین روزہ کانفرنس میں مقالہ جات، مباحث اور تعلیمی و تحقیقی اشتراک شامل ہیں، کانفرنس میں شریک محققین اور سائنس دان پر امید ہیں کہ اس تحقیق اور مباحث سے انہیں نینو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔