آئندہ ہفتے ہیریٹیج ایپ اور ہیریٹیج ٹی وی چینل کا اجراء کیا جائے گا، سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس

21

اسلام آباد۔3اکتوبر  (اے پی پی):سیکرٹری وزارت قومی ورثہ و ثقافت نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کو بتایا ہے کہ  آئندہ ہفتے ہیریٹیج ایپ اور ہیریٹیج ٹی وی چینل کا اجراء کیا جائے گا جو پاکستان کے ثقافتی ورثے کو فروغ دے گا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے گندھارا کلچر اتھارٹی بل 2023 کے فروغ اور تحفظ کے بل 2023 پرغور کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ کمیٹی اس سے قبل متفقہ طور پر اسے مسترد کر چکی ہے۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی کی جانب سے اب تک کی گئی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں موصول ہونے والی 40 سفارشات میں سے 32 پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔ کمیٹی کو اردو سمیت مختلف مادری زبانوں میں بچوں کے لئے مقامی ثقافتی تعلیمی مواد تیار کرنے کے لئے وزارت کے اقدام سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری وزارت قومی ورثہ و ثقافت نے تصدیق کی کہ اس حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت کے ساتھ بات چیت شروع کردی گئی ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 19 اور 20 ستمبر 2023 کو اکادمی ادبیات پاکستان میں “اردو سمیت تمام مادری زبانوں میں بچوں کے لئے مقامی ثقافتی تعلیمی مواد” پر روشنی ڈالنے کے لئے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اپنی قومی شناخت کے حصے کے طور پر ثقافت اور ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کمیٹی نے ان پہلوئوں کی اہمیت کی ضرورت پر زور دیا اور انہیں معاشرے میں بالخصوص نوجوانوں کے لئے اہم اجلاس کے نکات کے طور پر غور کیا۔ زبان اور ترجمے کے حوالے سے خدشات کے جواب میں کمیٹی نے اردو کو پاکستانیوں کے لیے متحد زبان کے طور پر تسلیم کیا۔ سائن بورڈز اور ہوائی اڈوں پر ترجمہ کی غلطیوں کو دور کرنے کی تجویز دی گئی تھی  اور ڈی جی “ادارے برائے فروغ قومی زبان” نے متعلقہ حکام کے ساتھ مناسب ترجمہ کرنے کا وعدہ کیا۔ کمیٹی نے سندھ میں “کارون جھر پہاڑی تھرپارکر” کو قومی ورثہ قرار دینے پر بھی غور کیا۔ اس کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سینیٹر کیشو بائی نے ہندو برادری اور تھرپارکر کے لوگوں کے لئے اس مقام کو محفوظ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کمیٹی نے پہاڑ کو کان کنی کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا اور اس فیصلے میں سندھ حکومت کو شامل کرنے کی سفارش کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سیاحتی مقامات کے تحفظ کے ممکنہ معاشی اثرات پر زور دیتے ہوئے ثقافت اور کھیلوں کو معاشرے میں متحد کرنے والے عوامل قرار دیا۔ سیکرٹری وزارت قومی ورثہ و ثقافت نے آئندہ ہفتے ہیریٹیج ایپ اور ہیریٹیج ٹی وی چینل کے اجراء کے منصوبوں کا اعلان کیا جو پاکستان کے ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لئے وزارت کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ کمیٹی نے کرتارپور صاحب میں سٹورز کی تعداد میں اضافے کی سفارش کی اور پاکستان میں مذہبی اور ثقافتی سیاحت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کرتارپور راہداری کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز مشاہد حسین سید، پلوشہ محمد زئی خان، خالدہ عتیب، فوزیہ ارشد، فلک ناز، کیشو بائی اور روبینہ خالد نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے سیکرٹری اور دیگر اہم حکام نے بھی شرکت کی۔