کوئٹہ، 18 اکتوبر (اے پی پی):نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ صرف افغان نہیں بلکہ تمام غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا،اب تک چمن کے راستے ایک ہزار خاندان واپس جاچکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سو کے قریب خاندان وطن واپس جارہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو یکم نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، ویزا یا مہاجر کارڈ رکھنے والے مہاجرین کو نہیں نکالا جائے گا۔نگراں صوبائی وزیر نے کہا کہ 40 سال تک مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے اب انھیں باعزت طور پر اپنے ملک بھجوا رہے ہیں، غیر قانونی مہاجرین کس جگہ رہ رہے ہیں ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے۔جان اچکزئی نے کہا کہ اس ضمن میں کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پاکستان سے جانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست نے چند اصولی فیصلے کیے ان پر سختی سے عمل کیا جائے گا، ہر روز غیر قانونی طور پر مقیم کئی خاندان واپس جا رہے ہیں، ملک میں رواں سال 20 خودکش دھماکوں میں سے 13 میں افغانی ملوث ہیں۔نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ غیر قانونی غیرملکیوں کو ڈیڈلائن فائنل ڈیڈ لائن ہے،دستاویز رکھنے والے غیر ملکیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔انھوں نے کہا کہ اب تک چمن کے راستے ایک ہزار خاندان واپس جاچکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سو کے قریب خاندان وطن واپس جارہے ہیں،واپس جانے والوں کی فنگر پرنٹ رجسٹریشن کی جائے گی،جان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے اقدامات کا مقصد ہے کہ تارکین وطن کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے،ہم نے 40 سال تک مہمان نوازی کی ہے انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں 5 لاکھ افراد کے پاس قانونی دستاویز موجودہیں جبکہ 3 لاکھ افراد غیر قانونی رہائش پذیر ہیں،جان اچکزئی نے کہا کہ ڈیڈ لائن کے بعد غیر قانونی رہائش پذیر ہر ایک غیرملکی کو واپس بھیجا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔











