معروف شاعرہ ناہید اقرار کے شعری مجموعہ” میرا عنوان تم ہو” کی تقریب رونمائی کا انعقاد

57

لاہور 19 اکتوبر ( اے پی پی ): معروف شاعرہ ناہید اقرار کے شعری مجموعہ” میرا عنوان تم ہو ”کی تقریب رونمائی جمعرات کے روز الحمراادبی بیٹھک میں منعقد ہوئی۔تنظیم قلم دوست کے زیر اہتمام اس تقریب کی صدارت خالد شریف نے کی ۔تقریب کے مہمان خصوصی میں توقیر احمد شریفی،آغا اقرار ہارون، احمد علیم احمد اور شعیب بن عزیز تھے جبکہ مہمان اعزاز میں اعتبار ساجد،ڈاکٹر اختر سندھو ،سلیم حسن اور افتخار احمد شامل تھے جبکہ مقررین میں رقیہ اکبر ،کنول بہزاد ،شاہین اشرف نے خطاب کیا ۔معروف صحافی اور کالم نگار افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک شاندار شاعری مجموعہ لکھنے پر ناہید اقرار کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ناہید اقرار جیسی شخصیت نے علم و ادب کو دوام بخشنے میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھا ہوا ہے جو لائق تحسین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ” میرا عنوان تم ہو” ان کا پہلا مجموعہ ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھیں گی ۔معروف ادیب احمد علیم نے کہا کہ ناہید اقرار کی شاعری پڑھ کر خوشی ہوئی ، ان کی سوچ کا زاویہ دیگر خواتین شعرا سے مختلف اور یکتا ہے،ان کی شاعری سادہ ضرور ہے لیکن انہوں نے اپنی شاعری میں سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے ، ناہید اقرار جیسی شخصیات ادب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔رقیہ اکبر نے کہاکہ ناہید اقرار کی کتاب ایک شاندار شاعری مجموعہ اور علم و دانش کی مکمل تصویر ہے جو علم اور حکمت کے بازار سے نہیں ملتا ۔انہوں نے کہاکہ ناہید اقرار کی نثر اور نظم میں بھی ایک بہادرانہ کیفیت نظر آتی ہے۔معروف ناول نگار و شاعرہ کنول بہزاد نے کہاکہ ناہید اقرار جیسی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، ایسی شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ، جب تاریخ لکھی جائے گی تو ناہید اقرار اور ان کی نظموں اور غزلوں کا ذکر ضرور کیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ یہ ضروری نہیں کہ شاعر و ادیب ہم زبان ہو مگر ان کا غمگسار ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں علم و دانش کا پورا احاطہ کیا ہے ۔انہوں نے ناہید اقرار کی نظمیں اور غزلیں پڑھ کر بھی سنائیں۔شاہین اشرف نے کہاکہ اس کتاب میں ان کی شخصیت کا ایک جلالی پہلو بھی نظر آتا ہے،پرانے زمانے میں کسی عورت کا قلم اٹھانا اور لکھنا بہت معیوب سمجھا جاتا تھا، میں ناہید اقرار کو مبارکباد دیتی ہوں کہ آج بھی ان کا قلم چل رہا ہے اس طرح لکھنے کی جرات صرف ان میں ہی ہے۔آغا اقرار ہارون نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے ، ہمیں اپنی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تاکہ وہ بلا خوف وخطر اپنے اس ٹیلنٹ کا اظہار کر سکیں – انہوں نے کہا کہ ناہید اقرار نہ صرف ایک اچھی شاعرہ ہیں بلکہ ایک اچھی گھریلو خاتون بھی ہیں۔معروف شاعرہ ناہید اقرار نے کہا کہ میں اس قابل نہیں جس کی مجھے عزت افزائی دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں کی گئی شاعری دراصل ہمارے کالج کے زمانہ کی شرارتیں ہی سمجھ لیں-انہوں نے کہا کہ مجھے اس شاعری مجموعہ لکھنے میں میرے دوستوں ، اساتذہ اور میری فیملی نے بہت سپورٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ گھر بنانے کیلئے قربانی دینا پڑتی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ہر عورت کی کامیابی کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے اس شعری مجموعہ کے پیچھے میرے خاوند اور سہیلیوں کا بہت کردار ہے جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور رہنمائی دی جس کے بعد میں اس کتاب کی مصنفہ بنی۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ میں جلد دوسری کتاب لکھوں اور اس سلسلے کو جاری رکھوں ۔واضح رہے کہ مصنفہ ناہید اقرار کاشعری مجموعہ” میرا عنوان تم ہو” شائع ہو گیا ہے۔ناہید اقرار ریڈیو پاکستان کی بھی ایک معروف آواز ہیں۔ انہوں نے اردولٹریچر اور فلاسفی میں ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی۔تنظیم قلم دوست کے چیئرمین ایثار رانا نے کہا کہ بطور ادیب، کالم نویس ، شاعر ،صحافی، اہل دانش اور اہل قلم ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی لے کر آئیں،مجھے افسوس ہے کہ آج ہم ادب کو بھول چکے ہیں، ہماری نئی نسل کو ادب اور شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ، بطور مسلمان ہمیں اپنے تشخص کو برقرار رکھنا چاہیے اور ادب کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور الحمرا آرٹس کونسل کی انتظامیہ کا بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں تنظیم قلم دوست کے چیئرمین ایثار رانا نے شاعرہ ناہید اقرار کو گلدستہ پیش کیا ۔اس موقع پر شگفتہ نذر ہاشمی ،زاہدہ، عالیہ، نجمہ شاہین و دیگر نے بھی خطاب کیا۔