لاہور، اکتوبر 4(اے پی پی): نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام ڈینگی اور پنک آئی کے مرض بارے منعقدہ آگاہی سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز، ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل، پروفیسر ڈاکٹر محمد معین، ڈاکٹر صومیہ اقتدار، ڈائریکٹر ای پی آئی پنجاب ڈاکٹر مختار اعوان، ڈائریکٹر سی بی سی ڈاکٹر یداللہ، پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج و چیئرمین ڈینگی ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ پروفیسر عمران حسن، عالمی ادارہ صحت سے یحییٰ گلزار، یونیسف سے ڈاکٹر صائمہ، واصف ناگی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ڈاکٹر صومیہ اقتدار نے اپنے خطاب کے دوران سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔
نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد پر انتظامیہ کو شاباش دیتا ہوں۔
سنگاپور، سوئٹزر لینڈ اور بھارت سمیت دنیا کے 139ممالک کو ڈینگی کے مرض کا سامنا ہے۔ ڈینگی کا پلیٹ لیٹس کے اتار چڑھاؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں ڈینگی 72 فیصد نوجوان نسل کو متاثر کر رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ محکمہ صحت پنک آئی کے مرض پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو پنک آئی کے مرض سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانی چاہئیں۔
وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ڈینگی کے مرض کا ذکر ہوگا پروفیسر فیصل مسعود مرحوم کی خدمات کو یاد کیا جائے گا۔ کسی بھی بیماری کے بارے میں آگاہی اور شعور پیدا کرنا علاج سے پہلے ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ کسی بھی وبا میں جانی نقصان نہیں ہونا چاہیئے۔ پروفیسر محمود ایاز نے کہا کہ آگاہی سیمینار کے انعقاد کا مقصد لوگوں کو مرض بارے آگاہ کرنا ہے چند چھوٹی چھوٹی احتیاطیں اپنا کر مرض سے بچا جاسکتا ہے
پروفیسر محمود ایاز نے کہا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آشوب چشم میں اگر مستند معالج سے رجوع کیا جائے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو آپ 3 سے 7 دنوں میں بہتر ہو جاتے ہیں۔
پروفیسر محمد معین نے کہا کہ آشوب چشم کی صورت میں آنکھ کو بار بار ملنے سے نظر خراب ہوسکتی ہے۔ عام طور پر اس مرض کی وجہ سے بروقت علاج کے بعد نظر کو نقصان نہیں ہوتا۔ کچھ نہ بھی کریں تو یہ مرض 8 سے 10 دنوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔ پروفیسر محمد معین نے کہا کہ مرض لاحق ہونے کی صورت میں گھر پر رہیں اور لوگوں سے رابطہ کم کر دیں۔ کنٹیکٹ لینز کے استعمال کو ترک کر دیں۔











