صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین اور صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت اجلاس، جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کے فروغ کا فیصلہ

0

لاہور، 24 جولائی(اے پی پی): صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے پی اینڈ ڈی ٹاور میں محکمہ زراعت کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ہارویسٹر، سپر سیڈر، ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے، ایگرو بیسڈ انڈسٹری کے فروغ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جدید زراعت کے فروغ کے لیے صنعت اور زراعت کے محکمے باہمی اشتراک سے کام کریں گے، جبکہ جدید زرعی آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے مقامی صنعتکاروں اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان جوائنٹ وینچر کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ صوبائی وزیر زراعت نے گجرات میں ایگری مال کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت جدید زراعت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور صوبے کی بڑی آبادی کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا گیا، تاہم موجودہ حکومت نے ایگری میکانائزیشن میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جدید زراعت کے فروغ کے لیے چین کے ہواوے گروپ کے ساتھ اشتراک موجود ہے، جبکہ جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کے لیے چین اور دیگر ممالک کی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ چوہدری شافع حسین نے سیڈ ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دینے، محکمہ اوقاف کی زمینوں پر سویابین کی کاشت کی منصوبہ بندی اور ایگرو بیسڈ انڈسٹری کے فروغ کے لیے صنعتکاروں کو وزیراعلیٰ آسان کاروبار فنانس اسکیم سے استفادہ کرنے کی بھی ترغیب دی۔

صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جدید زراعت کے فروغ کے لیے تاریخ ساز اقدامات کیے ہیں اور گزشتہ اڑھائی برسوں میں اس شعبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو زرعی لوازمات کی خریداری میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور حکومت آسان زرعی قرضوں کی مزید اسکیمیں بھی متعارف کرا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہارویسٹر، سپر سیڈر، ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات مقامی سطح پر تیار ہوں تاکہ زرعی شعبہ مزید مستحکم ہو اور ایگرو بیسڈ انڈسٹری کو فروغ ملے۔

اجلاس میں سیکرٹری زراعت، اسپیشل سیکرٹری زراعت، اسپیشل سیکرٹری انڈسٹریز اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔