پشاور،26 اپریل (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ صحتمند معاشرے اور بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے شعبہ صحت میں تحقیق انتہائی ضروری ہے، دنیا میں عالمی طبی چیلینجز سے نمٹنے کیلئے شعبہ صحت میں جدید تحقیق کو فروغ دینا ہو گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بطور مہمان خصوصی رحمان میڈیکل کالج انسٹیٹیوٹ حیات آباد میں منعقدہ عالمی کانفرنس برائے ہیلتھ ریسرچ 2024سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ نے بلاشبہ اس خطے میں شعبہ طب میں بہتری کیلئے تحقیق پر قابل عمل کام کیا ہے، آر ایم آئی خیبرپختونخوا کا نامور طبی ادارہ ہے جس کی مقبولیت پورے ملک میں ہے، میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں نے موجودہ دور کے طبی چیلینجز کا سامنا کرنا ہے، میڈیکل میں تحقیق و نئی ایجادات سے آگے بڑھنا ہو گا، بیماریوں کی تشخیص و علاج معالجہ میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے، ہسپتالوں میں بہترین سستا علاج معالجہ اور تعلیمی اداروں سے بہترین نتائج صحت و تعلیم کے شعبوں کی کامیابی سمجھی جائیں گی۔
گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا کہ ڈاکٹروں نے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے ساتھ اپنے رویوں میں اخلاق، شائستگی کو لازمی جزو بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان میڈیکل اسٹوڈنٹس کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طبی شعبہ میں تحقیق میں اپنا نام پیدا کریں،مجھے امید ہے کہ یہ کانفرنس طبی شعبہ میں بہتری کیلئے انتہائی مفید ثابت ہو گی،کانفرنس میں شریک عراق، ایران، صومالیہ، قطر سمیت دیگر ممالک کے ریسرچرز کو خیبرپختونخوا آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنا سب سے افضل کام ہے، میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبہ کے تحت اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں،میڈیکل سمیت ہر ایک پیشہ میں محنت و دیانتداری سے کام لینا چاہئے، اپنے پیشہ سے ایمانداری اور لگن کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کی تمام شعبوں غریب و امیر کا فرق ختم کریں، میڈیکل کے شعبہ سمیت تمام شعبوں میں غریب و متوسط طبقہ کو تمام مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔











