اسلام آباد : چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت شہر کے انٹرچینجز ، پیڈسٹرین بریجز ، مرکزی شاہراہوں کی بیوٹیفکش و تزئین و آرائش کے حوالے سے اجلاس

16

‎اسلام آباد،19 جولائی ( اے پی پی): : چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک  اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد کی اپلفٹنگ اور بیوٹیفکیشن پلان پر عملدرآمد، انٹرچینجز اور پیڈسٹرین برجز سمیت مرکزی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، دیدہ زیب مستقل لائٹس اور ایس ایم ڈی ایز کی تنصیب کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

‎اجلاس میں راول چوک انٹرچینج کی بیوٹیفکش اور تزئین و آرائش کے حوالے سے مختلف ڈیزائن کی تجاویز پیش کی گئی ۔

‎چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ روال چوک انٹرچینج کے  ڈیزائن میں تمام صوبوں سمیت اسلام آباد اور اکائیوں کی ثقافتی نمائندگی بھی شامل ہونی چاہیے۔  اجلاس میں  پارک روڈ پر نئے پیڈسٹرین بریجز کی تنصیب کے حوالے سے ورکنگ کرنے کی ہدایت دی۔اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے جہاں نئی شاہرات اور انڈر پاسسز کی تعمیر کی جارہی ہے وہاں ایکسپریس وے، مارگلہ روڈ، کلب روڈ، پارک روڈ اور فیصل ایونیو کو نہ صرف اپ گریڈ کیا جارہا ہے بلکہ ان شاہراہوں پر لین مارکنگ، زیبرا کراسنگ ، فٹ پاتھ کی مرمت، میڈین اسٹرپس، گرین بیلٹس اور رائٹ آف وے کو خوبصورت بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑے راؤنڈ آباؤٹس کی تزئین و آرائش اور اربن فاریسٹ کے منصوبوں کو آلودگی کم کرنے کیلئے ترجیح دی گئی ہے۔ اس حوالے سے چئیرمن سی ڈی اے نے ممبر فنانس کو ضروری فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کا کہا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تزئین و آرائش اور شاہراہوں کو خوبصورت بنانے کے اس منصوبے کے تحت ماڈل شاہراہوں پر ہارٹیکلچر اور لینڈ سکیپنگ کے کام کے ساتھ ساتھ مناسب جگہوں پر شجر کاری کی جائے۔  اسی طرح ان شاہراہوں پر جدید لائٹنگ کا انتظام بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

‎چئیرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ اسلام آبادکے ہر سیکٹر میں پارکس کی مکمل اپ گریڈیشن کی جائے جسمیں ٹریکس، جھولے، جدید لائٹنگ اور ہارٹیکلچر کے کام شامل ہوں۔چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد کی قدرتی خوبصورتی میں مزید اضافہ، ماحول دوست شہر ، سیاحتی اور تفریحی سہولیات کو بہتر سے بہترین بنانے کیلئے اقدامات کو مزید تیز کرنے کےلئے تمام  وسائل بروئے کار لائے جائیں۔