ملتان16جولائی ) اے پی پی) کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا۔ سابق وفاقی سیکرٹری محمد علی گردیزی اور یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ارشد بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران کمشنر عامر کریم خاں نے مختلف تدریسی و تحقیقی شعبہ جات کا جائزہ لیا اور یونیورسٹی میں دستیاب سہولیات کو سراہا۔کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ سائنسی اور تکنیکی تعلیم ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ جدید علوم سے آراستہ نوجوان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ سے ملک کو ایک علمی معیشت میں بدلا جا سکتا ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو بھرپور فروغ دیا جائے تاکہ نئی ایجادات اور ایجادات پر مبنی ترقی کی راہ ہموار ہو۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں اگر جدید علوم کو صنعت کے ساتھ منسلک کریں تو یہ صنعتی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم مستقبل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کریں گے۔
کمشنر عامر کریم خاں نے اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے آراستہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔دورے کے دوران کمشنر عامر کریم خاں کو فیکلٹی ممبران سے متعارف کرایا گیا اور تدریسی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ڈیجیٹل لائبریری، جدید کلاس رومز، لیکچر ہالز، ڈے کیئر سنٹر، کیفے ٹیریا اور سائنسی لیبارٹریوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ویٹرنری سائنسز، فارماسیوٹیکل سائنسز اور دیگر سائنسی شعبہ جات کے انفرا اسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا۔کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ نجی شعبے میں اس معیار کی یونیورسٹی کا قیام خوش آئند اقدام ہے جو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے گا بلکہ خطے کی تعلیمی ضروریات بھی موثر انداز میں پوری کرے گا۔
اس موقع پر محمد علی گردیزی نے کمشنر عامر کریم خاں کو ادارے کے مختلف شعبہ جات، طلبہ کی تعداد، تدریسی سہولیات اور ترقیاتی اہداف سے متعلق بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں 150 جدید طرز کے کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں، جہاں کمپیوٹر سائنس، بزنس، نرسنگ، الائیڈ ہیلتھ، قانون اور دیگر شعبہ جات میں اعلیٰ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کی ڈیجیٹل لائبریری میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد کتابیں آن لائن دستیاب ہیں۔ ادارے میں نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ اور بلوچستان سے بھی طلباءزیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اس تعلیمی ادارے کو خطے کی سب سے جدید درسگاہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ایڈیشنل کمشنر کریم بخش بھی ہمراہ تھے۔











