لاہور، 13 ستمبر (اے پی پی): وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) کا اہم اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گجرات میں اربن فلڈنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر خصوصی غور کیا گیا۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ گجرات میں سیور اور ڈرین الگ الگ بنانے کی تجویز زیر غور ہے کیونکہ ایک ڈرین کافی نہیں، مزید نالے تعمیر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ برکس ڈرین کی جگہ آر سی سی نالے تعمیر کیے جائیں تاکہ نکاسی آب کا نظام مؤثر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے گجرات کے لیے خصوصی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب کے 52 شہروں میں پی ڈی پی کے تحت سکیمیں مکمل ہوں گی، جبکہ پہلے مرحلے میں 15 شہروں کے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے۔
ذیشان رفیق نے کہا کہ ہر شہر میں جدید سیوریج سسٹم اور زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ سولرائزڈ ڈسپوزل اسٹیشن بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اربن پلاننگ کے لیے 150 نئے انجینئرز تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ایک لاکھ آبادی والے شہروں میں ایک انجینئر اور دو لاکھ آبادی پر دو انجینئر تعینات ہوں گے۔
وزیر بلدیات نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے اراضی مختص کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس سلسلے میں چیئرمین پی اینڈ ڈی سے مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ روایتی نالے بنانے کے بجائے ہر شہر کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ہدایت کی کہ گجرات شہر کی ڈرین کی مسلسل صفائی کی جائے اور اردگرد موجود تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔











