لاہور، 26 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر خزانہ و پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمان کی زیر صدارت کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور قانون سازی و نجکاری کا 24واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے پیش کردہ 8 نکاتی ایجنڈے کی متفقہ منظوری دی گئی۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہروں کے دوران فسادات پر قابو پانے کے لیے ریاوٹ مینجمنٹ فورس کے قیام کی منظوری دی گئی، جس کے لیے پولیس آرڈر 2002 میں ترامیم کی جائیں گی۔ مزید برآں وقف، ٹرسٹ اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی مؤثر نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ایکٹ 2025 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں نابینا اور معذور افراد کے تحفظات کے ازالے کے لیے معذور افراد ایمپاورمنٹ ایکٹ 2022 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فورسٹ ایکٹ 1927 میں ترامیم کی جائیں گی۔ ان ترامیم کے تحت نایاب درختوں کی کٹائی پر سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا جائے گا، جبکہ محکمہ جنگلات کے افسران کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے کہا کہ ریاوٹ مینجمنٹ فورس کا قیام پرامن احتجاج کے حق کے ساتھ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ فورس 9 مئی جیسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد سے متعلق ایکٹ میں ترامیم سے بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی جبکہ جنگلات کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ناپید ہونے والے پرانے درخت قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں ہر صورت محفوظ بنایا جائے گا۔ اجلاس میں پنجاب اور چین کے صوبے گوئیزوہ (Guizhou) کے مابین دوستانہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔











