بیجنگ میں سی پیک کی 14ویں جے سی سی کا آغاز

18

بیجنگ/اسلام آباد، 26 ستمبر (اے پی پی):  بیجنگ میں پاک ـ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کا اجلاس شروع ہو گیا ہے،جس میں دونوں ممالک کے وزراء، متعلقہ وزارتوں کے نمائندے اور ماہرین شریک ہیں۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان اور چین کے وزراء منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں اور باہمی اعتماد و اشتراک دونوں ممالک کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ عوام، نوجوانوں اور کاروبار پر مبنی ترقی کا نیا دور ہوگا جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معیشت کو نئی قوت ملے گی۔

احسن اقبال نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے مکمل ہوئے، 888 کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر ہوئیں اور گوادر کو ترقی دے کر ماہی گیر قصبے سے پاکستان کا اہم میری ٹائم گیٹ وے بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایم ایلـ1 کی اپ گریڈیشن سے ریلوے نظام میں بہتری آئے گی جبکہ نوجوانوں کے لئے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس، انویشن سینٹرز اور انٹرن شپ کے مواقع تجویز کیے گئے ہیں تاکہ انہیں جدید علوم اور تجربے سے فائدہ مل سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان زرعی اصلاحات، الیکٹرک گاڑیوں اور صاف توانائی کے منصوبوں کو سی پیک فیز ٹو کا حصہ بنانے کا خواہشمند ہے۔ گلگت بلتستان میں 300 میگاواٹ کا سولر منصوبہ روزانہ 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ خنجراب، طورخم اور گوادر میں بارڈر مارکیٹس اور چاغی سے گوادر تک مائننگ کوریڈور ترقی کے نئے امکانات پیدا کریں گے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک اب حکومت سے حکومت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کاروبار سے کاروبار تعلقات پر مبنی تعاون کو فروغ دے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سی پیک منصوبوں کو کامیاب بنانے اور مستقبل میں مزید تعاون بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔