اسلام آباد، 11ستمبر(اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے سیمنٹ اور کلنکر کی برآمدات میں اضافے کے لیے قائم ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، عارف حبیب، پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بورڈ آف انویسٹمنٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی کے نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔ٹاسک فورس کمیٹی نے اجلاس کو اپنی پیش رفت اور جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پورٹ قاسم پر دو اضافی ملٹی پرپز برتھ جلد مکمل کر لی جائیں گی۔ انہوں نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو ان کی تعمیر کے لیے واضح ٹائم لائن فراہم کرنے کی ہدایت کی۔چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی نے آگاہ کیا کہ 30 ہزار میٹرک ٹن اضافی اسٹوریج کیپیسٹی کی منظوری کے لیے تجویز پی کیو اے بورڈ کو بھیجی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ اسٹوریج سہولیات کی مرمت دسمبر 2025 تک مکمل کر دی جائے گی۔چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ برتھ نمبر 10 سے 17 اپریل 2026 تک مکمل ہو جائیں گے۔
ہارون اختر خان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ ڈھاکہ میں پاکستانی سفیر سے رابطہ کر کے بنگلہ دیشی سیمنٹ درآمد کنندگان کی فہرست حاصل کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ فہرست بنگلہ دیش میں موجود پاکستانی بینکوں کے لیے ایل سی کے معاملات میں سہولت فراہم کرے گی اور پاکستانی سیمنٹ کی مسابقت کو بڑھائے گی۔عملی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہارون اختر خان نے ایک ذیلی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جس میں وزارتِ ریلوے، وزارتِ بحری امور، کے پی ٹی اور عارف حبیب کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ یہ گروپ کراچی شمالی بائی پاس کے قریب ٹرک مارشلنگ یارڈز کے لیے زمین کی نشاندہی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹرک مارشلنگ یارڈز کے قیام سے سیمنٹ ٹرکوں کی ترسیل میں وقت اور لاگت دونوں کی بچت ہوگی۔
ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برآمدکنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے برآمدکنندگان کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے۔











