اقوام متحدہ؛سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل میں وسطی افریقی جمہوریہ کی صورتحال پر خطاب

18

اقوامِ متحدہ، 29 اکتوبر ( اے پی پی):پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل میں وسطی افریقی جمہوریہ کی صورتحال پر خطاب میں وسطی افریقی جمہوریہ کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا ہے کہ قبل از وقت لاتعلقی، برسوں کی اجتماعی کوششوں سے حاصل ہونے والی نازک کامیابیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دینے والے  امن مشن کے اہلکاروں کی ثابت قدمی اور عزم کو سراہا اور ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے امن کے لیے جانیں قربان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 1400 اہلکار اس وقت اقوامِ متحدہ کے سب سے اہم امن مشنوں میں سے ایک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سفیر جدون نے 2019 کے سیاسی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے اور ان کے تحلیل کے عمل کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلح گروہوں کے نِسْلح کَردگی، تحلیل اور بحالی کے عمل کو قومی قیادت میں، مرکزی طور پر مربوط اور شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔ ان کے بقول، پائیدار امن کے لیے بحالی کے اقدامات کو سماجی و معاشی بحالی سے جوڑنا ضروری ہے تاکہ تشدد کے خطرے کو کم کیا جا سکے اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

علاقائی سلامتی پر بات کرتے ہوئے، سفیر عثمان نے شمال مشرقی علاقوں، خصوصاً واکاگا  میں جاری عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا، جسے سوڈان میں جاری تنازعات کے اثرات نے مزید بگاڑ دیا ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک خصوصاً چاڈ اور دیگر ریاستوں کے ساتھ مضبوط علاقائی تعاون، سرحدی نظم و نسق کے مؤثر طریقۂ کار، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام اور مویشیوں کی موسمی نقل مکانی کے ذمہ دارانہ انتظام پر زور دیا۔