پشاور، 10 اکتوبر (اے پی پی):پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے سہولت کاروں کو خبردار کیا ہے کہ خارجیوں کو ریاست کے حوالے کر دیں یا نتیجے کے لئے تیار رہیں، خارجی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جس کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں،کسی فرد واحد کو اپنی ذات کے لیے ریاست اور پاکستانی عوام کے جان، مال اور عزت کا سودا کرنے کی اجازت دی نہیں جاسکتی ہے۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن عوامل کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی ہورہی ہے اس کی وجوہات میں نیشنل ایکشن پلان نکات پر مکمل عمل نہ کرنا،دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو اس میں الجھانا، بھارت کا افغانستان کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کی بنیاد کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان میں دہشتگردوں کو محفوظ پناگاہیں اور جدید ہتھیاروں کی دستیابی اور دہشتگردی کے پیچھے دہشتگرد کرائم نیکسس کی موجودگی جسے مقامی اور سیاسی پشت پناہی شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد صوبہ خیبرپختونخوا میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ میرے یہاں آنے کا مقصد خیبرپختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا احاطہ کرنا ہے۔اس کے ساتھ خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی اس جنگ میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے. میں یہاں افواجِ پاکستان کی جانب سے تجدید عزم کرنے آیا ہوں کہ ہم سب نے مل کر خیبر پختونخوا کے عوام کی مدد سے من حیث القوم دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان بالعموم اور خیبر پختونخوا باالخصوص دہشتگردی کے ناسور سے نبرد آزما ہے جس میں ہزاروں معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیز، افواجِ پاکستان، پولیس اور ایف سی کے جوانوں نے اپنے خون سے پاکستان کی دھرتی کو سینچا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں جاری آپریشن کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 14 ہزار 535 اینٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔ روزانہ کی بنیاد پر کئے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی تعداد 40 کے لگ بھگ ہے۔ 2024 کے دوران ان آپریشنز میں 769 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا ۔ 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں ان آپریشنز کے دوران 577 قیمتی جانوں نے شہادت نوش کی جن میں پاک فوج کے 272 بہادر آفیسرز و جوان،پولیس کے 140 جبکہ 165 معصوم شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں اب تک 15 ستمبر تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے ۔ ان آپریشنز کے دوران 917 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے ۔ 2025 کے دوران ان آپریشنز میں 516 قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا جس میں پاک فوج کے 311 بہادر آفیسرز و نوجوان، پولیس کے 73 جبکہ 132 معصوم پاکستانی شہری شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر 2021 سے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تو رسپانس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال جو خارجی مارے گئے۔ان کی تعداد گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد سندھ اور پنجاب میں کیوں اپنا نیٹ ورک نہیں پھیلا سکے کیونکہ سندھ اور پنجاب میں گورننس ہے،ان کی فورسز نے خوارج کو روک رکھا ہے جبکہ دوسری طرف خیبر پختونخوا ہے جہاں گورننس نام کی چیز نہیں، جہاں دہشتگردوں کو خود لا کر بسایا جاتا ہے ا ن کی سہولتکاری کی جاتی ہے۔ اگر آپریشن کریں تو مخالفت کی جاتی ہے ،صوبائیت کا رنگ دے کر گھٹیا سیاست کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سیکورٹی کی بھیک کسی دوسرے ملک سے نہیں مانگ سکتے۔سیکورٹی داخلی معاملہ ہے۔ انہوں اس ملک کےلیے بہت قربانیاں دی گئی ہیں اور یہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2016 سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا شروع کیا اور ایک پر امن خیبرپختونخوا کے خواب کی تکمیل کے قریب پہنچ گئے۔











