محکمہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے زیراہتمام ٹیکسیشن وانسداد منشیات ،پراپرٹی ٹیکس ،حدود قانون کے موضوع پر آگاہی سیشن

27

کوئٹہ، 28 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے زیرِ اہتمام بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے سکول آف لا  میں’’ٹیکسیشن اور انسدادِ منشیات، پراپرٹی ٹیکس، حدودِ قانون‘‘ کے موضوع پرآگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن بلوچستان لا سوسائٹی اور بیوٹمز اسکول آف لاء کے طلبہ کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس کا مقصد نوجوان قانون کے طلبہ میں ٹیکس نظام، پراپرٹی ٹیکسیشن کے قانونی فریم ورک اور انسدادِ منشیات کے سلسلے میں سرکاری پالیسیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس نارتھ نصیراللہ خان مندوخیل تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید ریاستی نظام میں ٹیکسیشن ریگولیشنز، پراپرٹی ایویلیوایشن میکانزم، اور اینٹی نارکوٹکس لاؤ انفورسمنٹ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طالب علموں کو فِسکل لا، ریونیو ایڈمنسٹریشن، اور کمپلائنس سسٹمز کی عملی سمجھ حاصل کرنی چاہیے،  انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکسیشن ماڈلز، GIS – based پراپرٹی سرویز، اور ایـریگولیشنز کے نفاذ سے شفافیت اور گورننس کے معیار میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ  معاشرتی اصلاح اور انسدادِ منشیات میں طالب علم، عوام اور قانون دان طبقہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان جب سماجی شعور اور قانون کی سمجھ کے ساتھ کام کرتے ہیں تو ایک مضبوط اور منظم معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔سیشن سے خطاب کرنے والوں میں ڈائریکٹر ایکسائز رستم خان، جمشید گچکی، سہیل حسن کاسی، نجوا غنی، شبیر احمد اور اسحاق وکٹر شامل تھے۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پراپرٹی ٹیکسیشن، پروفیشنل ٹریڈ ٹیکس اور دیگر مالیاتی قوانین کی بہتر سمجھ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کی لعنت نہ صرف ایک کرمنل جسٹس ایشو ہے بلکہ ایک سوشیو اکنامک چیلنج بھی ہے، جس کے خاتمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ  عوام، وکلاء  اور تعلیمی اداروں کا بھی کلیدی کردار ہے۔سیشن میں مختلف موضوعات پر تکنیکی و قانونی گفتگو کی گئی جن میں موٹر وہیکل ٹیکسیشن، پراپرٹی ویلیوایشن، پروفیشنل ٹریڈ ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی کے ضوابط، اور قوانین کے نفاذ میں درپیش چیلنجز شامل تھے۔بیوٹمز اسکول آف لاء  کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور سیشن کو نہایت معلوماتی و رہنمائی پر مبنی قرار دیا۔ شرکاء  نے کہا کہ ایسے پروگرام نوجوانوں میں لیگل لٹریسی، مالی نظم و ضبط، اور سماجی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔منتظمین نے محکمہ ایکسائز و اینٹی نارکوٹکس کے تعاون اور طلبہ کے جوش و خروش کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے آگاہی سیشنز کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔