لاہور، 18 اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وژن کے تحت پاکستان میں پہلی بار مائیکرو انٹرپرائز تک حکومت کی مالیاتی سکیموں اور ترقیاتی خدمات کی رسائی ممکن بنا دی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے آج سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ((سمیڈا) کے صدر دفتر میں سمیڈا اور موبل لنک مائیکرو فنانس بنک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل )کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔ ایم او یو کے مسودےپر سمیڈا کے سی ای او سقراط امان رانا اور ایم ایم بی ایل کےصدر وسی ای اوحارث محمود چوہدری نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم بھی موجود تھے۔ ایس اے پی ایم ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں پاکستان ایک مضبوط، جامع اور ترقی پر مبنی ایس ایم ای سیکٹر کی تعمیر کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایک ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا چاہیتی ہے جہاں ہر مائکرو، سمال او ر میڈیم کاروبار کو پاکستان کے معاشی مستقبل میں ترقی اورمسابقت اور بامعنی حصہ ڈالنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ لیکن افسوس کہ اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود، ایم ایس ایم ایزکو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ان میں سب سے بڑی رکاوٹ مالیاتی خواندگی اور فنانس تک معقول رسائی کا نہ ہونا ہے، انہوں نے کہا کہ آج کاایم او یو اس رکاوٹ کو دور کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ جس کے تحت دونوں ادارے ملکر پاکستان کے گاوں اور قصبوں تک میں کام کرنے والے چھوٹے چھوٹے کاروباروں تک قرضوں اور کاروباری ترقیاتی خدمات پہنچائی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں خواتین کو ایم ایس ایم ایز کے شعبہ میں فعال بنایا جائے جس کیلئے وزیر اعظم کی ہدائت پر ویمن انٹرپرینیور شپ کے فروغ کیلئے ایک الگ پالیسی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان میں ایسے مائیکرو ، سمال اور میڈیم کاروبار جو غیر رسمی شعبہ میں ہیں انہیں بھی رسمی شعبہ کا حصہ بنایا جائے تاکہ وہ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سہولیاتی سکیموں سے استفادہ کر سکیں۔انہوں نے مائیکرو انٹر پرائزز کی مدد کیلئے اشتراک عمل پر سمیڈا اور ایم ایم بی ایل کے سربراہان کو مبارکباد پیش کی۔











