کوئٹہ، 27 نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت جمعرات کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں صوبے کے نوجوان انجینئرز کے لیے عالمی معیار کی منظم اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے سے متعلق منصوبے کا جائزہ لیا گیا ۔ چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ٹیکنیکل ہیومن ڈویلپمنٹ پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔حکومت بلوچستان اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے مابین باہمی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کی سادہ مگر پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایم او یو پر صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم جبکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر نے دستخط کئے۔ قبل ازیں بریفنگ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیکنیکل ہیومن ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بلوچستان کے فارغ التحصیل نوجوان انجینئرز کو چھ ماہ کی جامع عملی اور عالمی معیار سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ ٹرینیز کو ماہانہ پچاس ہزار روپے مشاہرہ بھی دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تین سو نوجوان انجینئرز کے پہلے بیچ کی تربیت یکم جنوری 2026 سے باضابطہ طور پر شروع ہوگی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کو جدید مہارتوں اور پیشہ ورانہ تقاضوں سے آراستہ کرنے کے لیے انجینئرز کی اشد ضرورت ہے جو بلوچستان کے ترقیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان انجینئرز کو سرکاری شعبے میں عملی تجربے اور صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوان انجینئرز کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے اور انہیں ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔











