لاہور، 27 نومبر (اے پی پی): صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت سی اینڈ ڈبلیو ہیڈ آفس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف میگا پروجیکٹس، سڑکوں کی بحالی اور توسیعی کاموں کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روڈ ریسٹوریشن پروگرام ٹو کی 38 اسکیمیں مکمل جبکہ روڈ ریسٹوریشن پروگرام کی مجموعی 397 اسکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر نے اس پیش رفت کو صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ملک صہیب احمد بھرتھ نے بتایا کہ قائداعظم انٹرچینج تا واہگہ بارڈر دو رویہ سڑک کی تعمیر دسمبر تک مکمل کر لی جائے گی۔
اسی طرح فیصل آباد—چنیوٹ 24 کلومیٹر دو رویہ سڑک پر ارتھ ورک، بیس کورس اور اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری ہے، اور یہ منصوبہ مارچ 2026 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ مزید بتایا گیا کہ ملتان—وہاڑی 93 کلومیٹر ڈسٹ فری دو رویہ سڑک پر شب و روز کام جاری ہے جبکہ منصوبے میں ایڈیشنل گیرج وے کی تعمیر بھی شامل ہے۔ ارتھ ورک، سب بیس اور بیس ورک پر کام تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے۔ کرتارپور کوریڈور کے حوالے سے صوبائی وزیر نے آگاہ کیا کہ 122 کلومیٹر پر مشتمل پانچ روڈز کی بحالی کا منصوبہ جاری ہے جبکہ سرکلر روڈ، نارووال—شکرگڑھ اور ڈھوڈے روڈ کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔ مریدکے—نارووال روڈ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ علاوہ ازیں، ملک صہیب احمد بھرتھ نے بتایا کہ خواجہ کارپوریشن فلائی اوور راولپنڈی منصوبہ مکمل کر دیا گیا ہے، جو شہریوں کی سفری آسانیوں کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومتِ پنجاب صوبے بھر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔











