ملتان؛ سموگ کے تدارک کے لیے جامع عملی اقدامات کا آغاز

11

ملتان ،20 نومبر(اے پی پی): ڈویژنل انتظامیہ اور ہارٹیکلچر ایجنسی نے سموگ کے تدارک کے لیے جامع عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ واسا، ایم ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ بھی اس مہم میں بھرپور انداز میں شریک ہیں۔ اسی سلسلے میں واسا کے ڈسپوزل اسٹیشنز پر بڑے پیمانے پر شجرکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمشنر ملتان عامر کریم خان نے قاسم پور ڈسپوزل اسٹیشن پر پودا لگا کر اینٹی سموگ شجرکاری مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو، ڈی جی ایم ڈی اے، ایم ڈی ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان کریم بخش اور اے سی سٹی نے بھی پودے لگائے۔

کمشنر ملتان نے کہا کہ سموگ اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ “تمام طبقہ ہائے فکر کو سموگ تدارک اقدامات میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ سرکاری ادارے حکومت پنجاب کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں،” کمشنر نے مزید کہا۔

ایم ڈی ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان کریم بخش نے بتایا کہ شہر کے 15 سے زائد ڈسپوزل اسٹیشنز پر آم، پلکن، جامن اور کچنار کے درخت لگائے جائیں گے جس کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زائد درخت لگائے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گرین بیلٹس اور پارکوں میں پانی کا چھڑکاؤ باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے تاکہ سموگ کی شدت کو کم کیا جاسکے۔ “ہم اداروں کو پانی کی مؤثر فراہمی یقینی بنا رہے ہیں اور سموگ کے خلاف ڈویژنل انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں،” ایم ڈی ہارٹیکلچر نے واضح کیا۔

شہر میں شجرکاری مہم کے ذریعے ماحول بہتر بنانے اور سموگ کے خطرات کم کرنے کے لیے جاری یہ اقدامات عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دیں۔