اسلام آباد، 31 دسمبر (اے پی پی): وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت نئی بندرگاہوں کی تعمیر اور ترقی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مستقبل کی بندرگاہی منصوبہ بندی ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ضروریات کے باہمی توازن کے اصول کے تحت کرنے پر زور دیا گیا۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ نئی بندرگاہوں کی ترقی میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی حیثیت دی جائے گی اور ڈیپ سی بندرگاہوں کی منصوبہ بندی میں معیشت اور ماحول کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری شعبے کی آئندہ سو سالہ ترقی حکومت کی قومی ترجیح ہے اور موجودہ بڑی بندرگاہوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر تجارتی ماڈل کا قیام ضروری ہے۔
جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ نئی بندرگاہوں کے لیے تکنیکی اور ماحولیاتی جانچ کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ بندرگاہی پالیسی کا لازمی حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی بندرگاہیں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ تین سے چار نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کے قیام کا منصوبہ ہے جبکہ نئی بندرگاہوں میں سبز توانائی اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش مکمل ہونے سے قبل متبادل انتظامات ناگزیر ہیں۔











