لاہور، 21 دسمبر (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے جمہوریہ ماریشس کے ہائی کمشنر منسو کرمباکس نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ماریشس کے ہائی کمشنر کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ اور ثقافتی تعلقات کو سراہا۔
ملاقات کے دوران بزنس ٹو بزنس روابط کے فروغ، تجارتی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ نمائشوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ماریشس کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، سیاحت، زراعت اور عوامی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حلال فوڈ، ٹیکنالوجی اور ہیومن ریسورس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا جبکہ بلیو اکانومی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے پنجاب حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے ماریشس کے لیے چاول، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات مزید بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ملاقات میں پیداواری کاشت، شوگر انڈسٹری میں تکنیکی تعاون اور ویلیو ایڈیشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کے سیاحتی شعبے میں ماریشس کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اندرون لاہور، شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالیمار گارڈنز، نور محل اور دیگر مذہبی و تاریخی مقامات عالمی سطح پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب حکومت ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ہنر مند افرادی قوت میں تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ماریشس کے درمیان دو طرفہ تجارت میں حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے اور زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز اور لائٹ انجینئرنگ جیسے شعبوں میں تجارت کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔
مریم نواز شریف نے کلائمیٹ ریزیلینٹ ویژن ایکشن پلان کے تحت گرین سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے تحفظ، سبز ٹرانسپورٹ اور گرین انرجی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پنجاب نے حالیہ تباہ کن سیلابی چیلنجز کا پامردی سے مقابلہ کیا ہے۔
ماریشس کے ہائی کمشنر منسو کرمباکس نے وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ سے پاکستان کا حقیقی مثبت تشخص دنیا کے سامنے آئے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور انسداد منشیات کے لیے حکومت پنجاب کی کاوشوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ماریشس کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔











