اسلام آباد، 19 دسمبر (اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جناب جام کمال خان نے ضلع چمن اور چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے تاجروں، رہنماؤں اور کمیونٹی نمائندوں کے ساتھ سرحدی تجارت سے متعلق مسائل پر اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں پاک–افغان سرحد چمن کراسنگ کی بار بار اور طویل بندش کے باعث درپیش مشکلات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے آگاہ کیا کہ سرحد کی بندش سے تاجروں کو شدید مالی نقصانات، خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات میں رکاوٹ، بے روزگاری میں اضافہ اور سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کو سخت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ وزارتِ تجارت سرحدی تجارت سے متعلق امور کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چمن کے عوام اور تاجر برادری کو درپیش مسائل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سرحد کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ مجموعی حکومتی پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ صرف وزارتِ تجارت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ تاہم وزارتِ تجارت قانونی اور جائز تجارت کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کو متعلقہ قومی اداروں اور مناسب دوطرفہ فورمز پر اٹھایا جائے گا تاکہ سیکیورٹی تقاضوں اور قانونی تجارت کے فروغ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر سرحدی انتظامی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر تجارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرحدی تجارت سے متعلق چیلنجز کے حل اور چمن کے عوام و تاجر برادری کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی۔











