اقوامِ متحدہ، 12 دسمبر( اے پی پی) پاکستان نے افریقہ میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنی حمایت کے عزم کو دہرایا ہے اور علاقائی شراکت داروں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتماد وسائل اور مضبوط بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے علاقائی دفتر برائے وسطی افریقہ پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ وسطی افریقہ میں حاصل ہونے والی پیش رفت کا اہم جائزہ پیش کرتی ہے جبکہ سیاسی انتقالِ اقتدار، سکیورٹی خدشات اور انسانی بحرانوں جیسی مسلسل چیلنجز کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے خطے میں تنازعات کی روک تھام کے لیے کے اہم کردار کو سراہا اور کیمرون، برونڈی اور گیبون میں انتخابات سمیت متعدد ممالک میں سیاسی پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کی ثالثی کے تحت جاری عبوری عمل میں مضبوطی کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔
گرتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مشرقی کانگو میں بڑھتے ہوئے تنازعے باوجود جنگ بندی کے وعدوں پر روشنی ڈالی اور لیک چاڈ بیسن میں تشدد اور چاد میں بین الجماعتی کشیدگی کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔
انسانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، گل قیصر سروانی نے بتایا کہ وسطی افریقہ میں نقل مکانی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، جہاں 96 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں،صرف چاد ہی 14.7 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں 13 لاکھ سوڈانی پناہ گزین شامل ہیں جو اس کے قومی وسائل پر شدید دباؤ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی جھٹکوں، غذائی عدم تحفظ اور انسانی ضروریات کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر زیادہ بین الاقوامی یکجہتی، ترقیاتی فنانسنگ اور میزبان ممالک و مقامی کمیونٹیز کے لیے مضبوط تعاون کی اشد ضرورت ہے۔











