اسلام آباد ، 10 جنوری ( اے پی پی): اسلام آباد میں پانی کی کمی کے سدباب کے لیے جامع پلان پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں پانی کی قلت پر قابو پانے سے متعلق اہم اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں جڑواں شہروں میں پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے قلیل اور طویل مدتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سی ڈی اے اور پنجاب حکومت کے تعاون سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے مشترکہ طور پر ڈیمز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پانی ذخیرہ کرنے کے نئے چھوٹے ڈیمز اور واٹر ریزروائرز کی تعمیر پر ہونے والی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اسلام آباد میں پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے، واٹر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں نقائص کی نشاندہی اور مؤثر ترسیل کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ واپڈا اور سی ڈی اے نے پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے مختلف آپشنز، فزیبلٹی رپورٹس اور متوقع ٹائم لائنز پیش کیں۔
اجلاس کو چراہ، دوتارہ اور شاہدرہ ڈیم منصوبوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 110 ایم ڈی جی سٹوریج والا دوتارہ ڈیم دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے پانی کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ امور تیزی سے طے کرنے کی ہدایت کی اور جامع روڈ میپ پر عملدرآمد کا پلان 10 روز میں طلب کر لیا۔
محسن نقوی نے پانی کی چوری اور کنکشن کے غلط استعمال کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے اور قلیل مدتی پلان کے تحت تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔











