لاہور۔10جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا فضل الرحیم فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے خلاف ایک توانا، موثر اور جرات مندانہ آواز تھے، ان کی دینی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر لواحقین سے اظہارِ تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزرا نے مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحیم نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی سربلندی، دینی تعلیم کے فروغ اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحیم کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور دینی و تعلیمی میدان میں ان کی جدوجہد آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ہمیشہ اعتدال، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے داعی رہے اور معاشرے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ان کا مولانا فضل الرحیم کے ساتھ طویل عرصے سے محبت اور احترام پر مبنی تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم جس خلوص، محبت اور دل سے دعا کراتے تھے، ایسی دعا شاید ہی کوئی اور کرا سکے۔ محسن نقوی نے مرحوم کو محبت کرنے والا اور مخلص انسان قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحیم نے جامعہ اشرفیہ کو حقیقی معنوں میں ایک مثالی دینی درسگاہ بنایا، جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم، کمپیوٹر سائنس، انگریزی اور دیگر عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اشرفیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ مدارس کے نام پر منفی تاثر درست نہیں، بلکہ یہ ادارے مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست کے خلاف جو ہتھیار اٹھاتے ہیں ان سے متعلق قران حکیم کے واضح احکامات مو جود ہیں۔ وفاقی وزراء نے مرحوم کے صاحبزادے مولانا زبیر حسن، پرنسپل جامعہ اشرفیہ مولانا قاری ارشد عبید اور وائس پرنسپل حافظ اسد عبید سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحیم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔قبل ازیں دونوں وفاقی وزرا نے جامعہ اشرفیہ کے اکابرین اور علمائے کرام سے ملاقات کی اور مولانا فضل الرحیم کی حیات و خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے علمی و فکری مقام کو سراہا۔ اس موقع پر مولانا اویس حسن، مولانا مجیب الرحمن انقلابی اور مولانا اجود عبید بھی موجود تھے۔











