لاہور ، 24 جنوری( اے پی پی): وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے ایکسپو سینٹر لاہور میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی قومی کلسٹر پر مبنی نمائش “میڈ اِن پاکستان – ایس ایم ای کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026” کا افتتاح کیا۔
تین روزہ ایکسپو، جو وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے زیرِ اہتمام منعقد کی جا رہی ہے، پاکستان بھر کے 20 سے زائد کلسٹرز سے تعلق رکھنے والی 174 ایس ایم ایز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہی ہے۔ نمائش میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی صلاحیت پیش کی جا رہی ہے۔ یہ ایونٹ ، اور روابط، پالیسی مکالمے، تکنیکی نشستوں اور سرمایہ کاروں، خریداروں اور کاروباری افراد کے مابین نیٹ ورکنگ کا جامع پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے ایکسپو کو پاکستان کی معاشی ترقی میں سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ “میڈ اِن پاکستان” ایس ایم ای کلسٹر شوکیس ملکی صنعت اور برآمدات کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پاکستان کی پہلی قومی ایس ایم ای کلسٹر نمائش ہے اور ایک فلیگ شپ پلیٹ فارم ہے جو ملک بھر کے ایس ایم ای کلسٹرز کی طاقت، تنوع اور برآمدی تیاری کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ ایکسپو مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو منظم انداز میں مارکیٹ، سرمایہ کاری کے مواقع، سورسنگ نیٹ ورکس اور ادارہ جاتی معاونت سے جوڑنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس سے پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ہارون اختر خان نے بتایا کہ شریک ایس ایم ایز کا انتخاب ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور تجارتی اداروں کے ذریعے شفاف انداز میں کیا گیا، جس میں بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خواتین کاروباری افراد کو خصوصی ترجیح دی گئی۔ خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کی مصنوعات کے لیے ایک خصوصی پویلین بھی قائم کیا گیا ہے، جو حکومت کے جامع اور شمولیتی معاشی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی ترقی دراصل قومی ترقی ہے۔
یہ نمائش صرف مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ پاکستان کے ہنر، حوصلے اور پیداواری صلاحیت کی جھلک ہے۔ ‘میڈ اِن پاکستان’ صرف لیبل نہیں بلکہ معیار، بہترین کارکردگی اور قومی وقار کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایکسپو پاکستان کو عالمی سپلائی چین میں مضبوط مقام دلانے کی جانب اہم قدم ہے اور سرمایہ کاروں، خریداروں اور اداروں کے لیے بہترین نیٹ ورکنگ موقع فراہم کرتی ہے۔
وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایس ایم ایز معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔پاکستان میں اندازاً 7.14 ملین ایس ایم ایز موجود ہیں، جو جی ڈی پی میں 40 فیصد اور برآمدات میں 30 فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔ حکومت اس شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے فنانس تک رسائی، برآمدی تیاری، وینڈر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل و اے آئی پر مبنی تربیت کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپو سے حاصل ہونے والی معلومات اور ڈیٹا شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ہدفی کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرامز میں معاون ثابت ہوں گے۔
سی ای او سمیڈا، نادیہ جہانگیر سیٹھ نے ایکسپو کو پاکستان کے ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ملک بھر کے متنوع کلسٹرز کو ایک قومی پلیٹ فارم پر نتائج پر مبنی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
نمائش میں شامل شعبوں میں ٹیکسٹائل و دستکاری، کھیلوں کا سامان، لیدر، سرجیکل آلات، کٹلری، فرنیچر، زرعی کاروبار، ماربل و گرینائٹ، اور لائٹ انجینئرنگ شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب سے سمیڈا بورڈ ممبر آسیہ سائل نے بھی خطاب کیا۔
ایس ایم ای کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026 پاکستان کی صنعتی صلاحیت اور کاروباری طاقت کا قومی اظہار ہے، جو دنیا کو پاکستان کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دیتا ہے ، ایک ایسے مستقبل کے لیے جو جدت، حوصلے اور شمولیتی ترقی سے عبارت ہے۔











