وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے بھر کے ہیلتھ پراجیکٹس کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ اجلاس، اہم فیصلے

11

لاہور، 9 جنوری (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری، ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور نظم و ضبط کے قیام کیلئے اہم اور سخت فیصلے کرتے ہوئے نئی اور جدید میڈیسن کی فہرست مرتب کرنے اور اس مقصد کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبے بھر کے ہیلتھ پراجیکٹس کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹرز اور نرسز کے موبائل فون استعمال پر پابندی پر اتفاق کیا گیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

 اجلاس میں سرکاری ہسپتالوں کے سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسز اور فارمیسی اسٹاف کو باڈی کیم لگانے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ہر سرکاری ہسپتال میں روزانہ صبح 9 بجے تک مکمل اسٹیِم کلیننگ کو یقینی بنایا جائے۔

 وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی آلات کی فراہمی کیلئے چینی ساختہ طبی آلات کے استعمال کی اجازت پر غور کی ہدایت دی، جبکہ ہسپتالوں میں موجود سیکیورٹی کمپنیوں اور سیکیورٹی گارڈز کے خلاف عوامی شکایات کا سخت نوٹس بھی لیا۔

اجلاس میں ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے فول پروف نظام وضع کرنے، پنجاب میں ایم ایس پول قائم کرنے اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو ہسپتال سروے کی ذمہ داری سونپنے پر بھی اتفاق ہوا۔

وزیر اعلیٰ نے ہیلتھ سیکٹر میں عوامی فلاحی اقدامات کی افادیت جانچنے کیلئے ڈیٹا اینالیسز سنٹر قائم کرنے کی ہدایت دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں گزشتہ دو سال سے کم عرصے میں 2500 سے زائد ڈاکٹرز کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ صوبے بھر میں کارڈیک میڈیسن ہوم ڈیلیوری کیلئے 5 لاکھ 85 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے 6 ہزار مریضوں کو گھروں کی دہلیز پر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

 وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت ادویات کیلئے 80 ارب روپے فراہم کر رہی ہے، اس کے باوجود ادویات کا دستیاب نہ ہونا ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب عوام کا وقت اور پیسہ ضائع نہیں ہوگا اور نااہل و کام چور افراد کو گھر جانا ہوگا۔