اسلام آباد، 2 جنوری (اے پی پی ): چیف جسٹس آف پاکستان نے سول سروسز اکیڈمی کے زیرِ تربیت افسران سے ملاقات کے دوران آئینی حکمرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کے اخلاقی تقاضوں پر زور دیا۔
سپریم کورٹ کے دورے پر آئے سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 136 زیرِ تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اختیارات کی تثلیث، قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے عدالتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے تحت ای فائلنگ، آن لائن تصدیق شدہ نقول اور ون ونڈو پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر جیسے اقدامات جاری ہیں، جبکہ اگست 2026 تک عدالتوں میں سولر انرجی، ای لائبریریاں، صاف پانی اور خواتین کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
چیف جسٹس نے زیرِ تربیت افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیانتداری، شفافیت اور شہریوں کے ساتھ احترام کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی اصول بنائیں۔











