سکھر،06جنوری(اے پی پی ): گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزنے تقریباً 1100 کامیاب لیور ٹرانسپلانٹ اور 200 سے زائد بون میرو ٹرانسپلانٹ انجام دے کر ایک اہم سنگ میل حاصل کرچکا ہے۔
گمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے اس کامیابی کا سہرا سندھ حکومت کو دیا، جس نے کو پاکستان بھر اور بیرون ملک کے مریضوں کو بین الاقوامی طرز اور بلا معاوضہ علاج فراہم کرنے میں ہر ممکن مدد فراہم کی۔
گمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے، جس میں متعدد پیچیدہ لیور ٹرانسپلانٹ ایک عوامی سیکٹر ہیلتھ فیسلیٹی میں کامیابی سے انجام پائے گئے ہیں جس کی مثال ایشیا میں نہیں ملتی۔
ڈاکٹر بھٹی کے مطابق سندھ سمیت پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر اور افغانستان کے مختلف اضلاع کے مریضوں نے لیور اور بون میرو جیسے مہنگے ترین ٹرانسپلانٹ سے مفت فائدہ حاصل کیا ہے۔ڈاکٹر بھٹی کے مطابق گمس میں لیور ٹرانسپلانٹ کی کامیابی کی شرح 90 فیصد ہے، جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں آتا ہے۔
گمس ہسپتال جدید ترین مشینری سے لیز ہے جہاں دیگر بہت سارے ٹرانسپلانٹ بھی انجام دیے جا رہے ہیں اور مختلف بیماریوں بین الاقوامی طرز کی طرح علاج کیا جاتا ہے، جوکہ ایشیا میں ایک اہم ہیلتھ کیئر انسٹیٹیوشن کے طور پر مانا جاتا ہے۔اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق ڈاکٹر بھٹی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کا دورہ کیا جہاں پاکستان بھر کے مریضوں سے ملاقات کی۔
انہوں نے 100 سے زائد مریضوں کو کینسر کے انجیکشن تقسیم کیے، جن کی قیمت مقامی مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
سبی بلوچستان سے آئی ہوئی خاتون نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وہاں سے لانے والا کوئی نہیں تھا میں خود ہمت کر کے آئی ہوں ٹانگوں سے میں معذور ہوں ، اللہ کے حکم سے میرا علاج بہتر ہوا ہے میں یہاں ہاسپٹل کا نام سن کے ائی ہوں ہمیں دوائی بھی یہاں مل رہی ہی ہیں، ہمارا علاج بہت بہتر ہو رہا ہے۔
کراچی سے آئے ہوئے مریض سے والد نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں کراچی سے یہاں آیا ہوا ہوں دو مہینے سے بچے کا علاج یہاں ہو رہا ہے بچے کی طبیعت بہت بہتر ہے اور یہاں میڈیسن فری دی جاتی ہیں ہر مہینے آتے ہیں اور فری دوائیاں لے کے جاتے ہیں اللہ کا کرم ہے میرے بچے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔











