آئی ایس ایس آئی اور روسی ادارے کے اشتراک سے یورپی و یوریشیائی سلامتی پر مکالمہ

10

اسلام آباد، 10 فروری(اے پی پی ): انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹوز نے روسی اکیڈمی آف سائنسز کے ادارہ برائے عالمی معیشت و بین الاقوامی تعلقات (آئی ایم ای ایم او) کے اشتراک سے یورپی اور یوریشیائی سلامتی پر ایک گول میز مکالمے کا انعقاد کیا۔

 مکالمے میں پاکستانی اور روسی ماہرین نے یورپ اور یوریشیا میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے کہا کہ 2020 کی دہائی میں عالمی سیاست اور سلامتی میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں جو پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ مسلسل مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔

آئی ایم ای ایم او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیودر ووئٹلوفسکی نے آئی ایس ایس آئی کے ساتھ دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

مکالمے میں ڈاکٹر ماریا خورو لسکایا، ڈاکٹر گلیب ماکاریوچ اور دیگر مقررین نے روس مغرب تعلقات، یوریشیائی ادارہ جاتی فریم ورک اور علاقائی تعاون پر روشنی ڈالی۔ پاکستانی ماہرین نے جنوبی ایشیا اور علاقائی رابطہ کاری پر ان پیش رفتوں کے اثرات کا جائزہ پیش کیا۔