اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اے آئی کو شامل کرتے وقت غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے اور متاثرہ افراد کو بروقت اور موثر انداز میں متبادل کرداروں میں ڈھالنا ناگزیر ہوگا،اے آئی زمینی سطح پر موسمیاتی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے اور مختلف ٹیکنالوجیز اور نگرانی کے نظام کو باہم مربوط کر کے ایک واچ ڈاگ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اے آئی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے قومی سطح پرمنعقدہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ورکشاپ کے پینل مباحثے سےخطاب کرتے ہوئے موسمیاتی نظم و نسق، عوامی پالیسی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مصنوعی ذہانت کے موثر کردار پر روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اے آئی کا سب سے اہم اور موثر استعمال اس کی پیش گوئی اور تدارکی صلاحیت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیٹا محدود اور بکھرا ہوا ہےجس کی وجہ سے موثر سازی میں مشکلات درپیش ہیں۔
پاکستان ولنریبلٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق ملک کے 20 سب سے زیادہ موسمیاتی طور پرحساس اضلاع میں سے 18 بلوچستان جبکہ 2 خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ رپورٹس ہمیں واضح طور پر یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ خطرات کہاں موجود ہیں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلنگ کے ذریعے ایسےاقدامات ترتیب دیے جا سکتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ اثرات مرتب کریں۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی زمینی سطح پر موسمیاتی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے اور مختلف ٹیکنالوجیز اور نگرانی کے نظام کو باہم مربوط کر کے ایک واچ ڈاگ کے طور پر کام کر سکتی ہے، اس کے ذریعہ کسی ممکنہ آفت کی پیشگی نشاندہی ممکن ہو جاتی ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت دنیا ایک ٹیکنالوجی انقلاب سے گزر رہی ہےجہاں مصنوعی ذہانت کو مرکزی پلیٹ فارم بنا کر مختلف ٹیکنالوجیز کا باہمی انضمام ہو رہا ہےتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی پر اندھا اعتماد انسانی فہم اور فیصلہ سازی کو کمزور کر سکتا ہے، اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط اور نگرانی نہایت ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اگلے مرحلے میں اے آئی ایجنٹس کا ظہور ہو رہا ہےجو بعض شعبوں میں انسانی ملازمتوں کی جگہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبے میں اے آئی کو شامل کرتے وقت غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے اور متاثرہ افراد کو بروقت اور موثر انداز میں متبادل کرداروں میں ڈھالنا ناگزیر ہوگا۔انہوں نےکہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وقتی طور پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے تاہم طویل المدتی ترقی اور پیداواری صلاحیت کے لیے جدت اور اختراع ناگزیر ہیں۔
پینل مباحثے میں وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین، پالیسی ساز اور سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔











