اسلام آباد، 09 فروری ( اے پی پی(:وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے ٹیک ایکو سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے بین الاقوامی برانڈز، مقامی صنعت اور اسٹارٹ اپس کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہی ہے۔
“انڈس اے آئی ویک” (Indus AI Week) کے موقع پر اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی صرف “ٹیک ماہرین” تک محدود نہیں۔
شیزہ فاطمہ خواجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اب صرف آئی ٹی ماہرین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ صحت، خزانہ (FinTech)، زراعت اور مائننگ جیسے نان ٹیک شعبوں کے مسائل حل کرنے کا ایک ناگزیر ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کا انضمام ملکی ترقی کی بنیاد بنے گا۔
انہوں نے خصوصی طور پر خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “AI for Her” اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کو خواتین کے لیے آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک خواتین کو ٹیکنالوجی کے دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، مکمل ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت وزیراعظم کے ایجنڈے کے مطابق ہر شہری کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جنس یا علاقے سے ہو، ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایکسپو میں بین الاقوامی کمپنیوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت پر بھرپور اعتماد کر رہی ہے۔











