وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی (ایس اے پی ایم) جناب ہارون اختر خان سے کمبوڈیا کی وزیرِ تجارت محترمہ چم نیمول کی ملاقات

12

اسلام آباد،11 فروری (اے پی پی ):  وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی (ایس اے پی ایم) جناب ہارون اختر خان نے کمبوڈیا کی وزیرِ تجارت محترمہ چم نیمول سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور صنعتی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دوطرفہ اقتصادی و صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنانے، مستقبل کے تعلقات کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ہارون اختر خان نے حالیہ برسوں میں کمبوڈیا کی نمایاں اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کمبوڈیا کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قیادت میں قومی صنعتی پالیسی اور قومی ٹیرف پالیسی مرتب کی گئی ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو تیز اور صنعتی شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔

کمبوڈیا کی وزیرِ تجارت نے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، وافر وسائل اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے صنعتی شعبے بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جہاں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دونوں ممالک باہمی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

کمبوڈین وزیر نے بتایا کہ اس وقت 166 پاکستانی نژاد کمپنیاں کمبوڈیا میں کام کر رہی ہیں اور ان کی سہولت کے لیے کمبوڈیا میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس وفود کے تبادلے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تجارتی اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ہارون اختر خان نے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کے شعبے میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے ذریعے تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت سمیڈا نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور یہ ادارہ کمبوڈیا کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستانی ایس ایم ایز کی بے پناہ صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “میڈ اِن پاکستان” مصنوعات جیسے زیتون کا تیل، شہد اور لیدر مصنوعات اعلیٰ معیار کی حامل ہیں اور انہیں عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گھروں سے کام کرنے والی پاکستانی خواتین کاروباری شخصیات کے کردار کو بھی سراہا اور ان کے لیے برآمدی مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کمبوڈیا کی وزیرِ تجارت کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر یادگاری تحائف پیش کیے۔