نیویارک، 23 مارچ (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن میں یومِ پاکستان سادگی اور وقار کے ساتھ منایا گیا، جہاں ملک کی آٹھ دہائیوں پر محیط جدوجہد، کامیابیوں اور مستقبل کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے بظاہر ناقابلِ عبور چیلنجز پر قابو پا کر مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں ذمہ دار کردار ادا کیا ہے۔
تقریب کا اہتمام پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے اشتراک سے کیا، جس کا آغاز قومی ترانے کی دھن پر قومی پرچم لہرانے سے ہوا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں پاکستان کے سفر کو تین مراحل میں بیان کیا۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے قیامِ پاکستان کی تاریخی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جمہوری، آئینی اور پُرامن تحریک تھی جس کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح نے کی، جبکہ لاکھوں افراد نے اس مقصد کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔
دوسرے مرحلے میں انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کے سفر کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ادب، فنون، موسیقی، کھیل اور خواتین کو بااختیار بنانے سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اپنے بنیادی نظریات پر قائم رہتے ہوئے مضبوط دفاع کو یقینی بنایا ہے اور اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے۔
انہوں نے مسلح افواج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں اور ملک نے اندرونی و بیرونی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک دشمن عناصر اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
سفیر نے جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے باہمی فائدے پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے۔
تیسرے مرحلے میں انہوں نے درپیش چیلنجز، خصوصاً علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی پاکستان کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے نئے عزم کا اظہار کیا گیا۔











