اقوام متحدہ،25مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں تمام فریقوں کو دشمنی ختم کرنے اور مسائل کے پُرامن حل کی جانب لانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے،خطہ اس وقت نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں وسیع تر تصادم اور اس کے دور رس اثرات کا خطرہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے سنگین صورتحال میں مزید کشیدگی سے ہر صورت بچنا چاہیے، تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوامِ متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رمیز الاکباروف نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016) پر روشنی ڈالی جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیر کی بند کرے۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس پر غزہ کے لئے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025)کے نفاذ پر بھی بریفنگ دی جس میں غزہ تنازعہ کے خاتمے کے لیے امریکا کے جامع منصوبے کی توثیق کی گئی تھی۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطین کا حل طلب مسئلہ عرب اسرائیل تنازعے کی جڑ ہے جو عدم استحکام، کشیدگی اور ناانصافی کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی عوام بدستور غیر قانونی قبضے، بے دخلی، منظم تشدد اور اپنے بنیادی حقوق بشمول حقِ خود ارادیت سے محرومی کا شکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ2 سال میں فلسطینیوں کی مشکلات غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں بالخصوص غزہ جہاں اسرائیلی حملوں میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے شہید ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جہاں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نےاسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہوں نے گھروں کو آگ لگائی، مساجد کو نذر آتش کیا ، گاڑیاں تباہ کیں اور درجنوں شہریوں کو زخمی کیا۔ عاصم افتخار احمد نے کہاکہ بین الاقوامی قانون کے تحت بطور قابض طاقت اسرائیل پر فلسطینی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر اس کی خلاف ورزی بغیر کسی سزا کے جاری ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کوششوں نے(جو عرب ممالک اور او آئی سی کی حمایت سے کی گئیں)امن منصوبے کو آگے بڑھایا اور شرم الشیخ سمٹ کے انعقاد میں مدد دی، ان اقدامات کے ذریعے علاقائی اور عالمی رہنمائوں کو چند اہم اور فوری ترجیحات پر متحرک کیا گیا جن میں خونریزی کا خاتمہ، مستقل جنگ بندی کا حصول، انسانی بحران کا مقابلہ، قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے پُرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی کوششیں اہم پیش رفت ہے اور اب ضروری ہے کہ ان اقدامات کو عملی شکل دی جائے۔انہوں نے مزید اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکی جائے ، مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے والے تمام اقدامات واپس لیے جائیں،سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے جس میں جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے، بغیر کسی الحاق یا جبری نقل مکانی کے فلسطینی علاقوں کی تعمیرِ نو فوری طور پر شروع کی جائے، شہریوں کے خلاف تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے،اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے وقت مقررہ سیاسی عمل یقینی بنایا جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ مندوب نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے، ہم ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔











