میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ خزانہ کی کفایت شعاری کمیٹی کا پہلا اجلاس

13

لاہور،26 مارچ(اے پی پی):صوبائی وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ خزانہ پنجاب کے کمیٹی روم میں پنجاب حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کے لیے تشکیل کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس کا مقصد ایران میں جاری جنگ اور خطے کی مجموعی معاشی صورتحال کے پیش نظر وسائل کے محتاط استعمال کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لینا اور آ ئند ہ لائحہ عمل کی تیاری تھا۔

اجلاس  میں صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات صہیب احمد بھرتھ،  صوبائی وزیر برائے آبپاشی محمد کاظم پیرزادہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری , سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری سروسز ،سیکرٹری آ ئی اینڈ سی، سیکرٹری ایج اور انتظامی محکموں  کے اعلیٰ  افسران نے شرکت کی۔

 وزیرخزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے  صوبے میں وسائل کے محتاط استعمال کے لیے جاری اخراجات میں واضح کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات میں غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی کابینہ رضاکارانہ طور پر دو ماہ تک اپنی تنخواہیں وصول نہیں کرے گی۔ اس سے قبل محکمہ خزانہ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے تحت تمام سرکاری محکموں کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کی بنیادی تنخواہوں سے دو دن کی تنخواہ جبکہ اراکین اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں اور الاونسز سے 25 فیصد کٹوتی کی گئی ہے ۔ مزید برآں آئندہ دو ماہ تک پبلک سیکٹر کمپنیوں ، خودمختار اداروں اور سپیشلائزڈ انسٹیٹیوشنز کے بورڈ ممبرز کو بورڈ فیس ادا نہیں کی جائے گی۔

سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت  تمام سرکاری محکموں میں گاڑیوں کی خرید  پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کسی بھی قسم کی گاڑی کی خریداری محکمہ خزانہ سے منظوری سے مشروط ہو گی۔  دفاتر میں فیول اور بجلی  کے اخراجات میں کمی کے لیے صرف ضروری سٹاف کو بلایا جائے گا۔ باقی سٹاف کے کمرے بند رکھیں جائیں گے تاکہ ائیر کنڈیشنڈ اور لائٹوں کے غیر ضروری استعمال کو کنٹرول جا سکے۔

 دفتری امور کو جاری رکھنے کے لیے آ ئن لائن میٹنگز کی جائیں گی۔ مزید برآں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی آمادہ کیا جائے گا کہ وہ  کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں ۔

اجلاس میں  مختلف محکموں کے سربراہان کی جانب سے غیر ضروری اخراجات میں کمی، مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور سرکاری وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے  کمیٹی کو اپنے اپنے محکموں میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر خزانہ نے محکموں کی جانب سے لیے گئے کفایت شعاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی ہفتہ واری رپورٹس پیش کریں اور بتائیں کے انھوں نے کن اقدامات سے کتنے وسائل کی بچت کی ہے  ۔  تمام محکمے اپنے انتظامی امور میں  شفافیت، احتساب اور بین المحکماتی ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔