وزیر اعلیٰ انفارمیشن ٹیکنالوجی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے کوشاں  ، پنجاب  کے 50 لاکھ طلبہ کو فرنٹئیر ٹیکنالوجیز پر ٹریننگ فراہم کی جائے گی ،  سینیٹر انوشہ رحمان

14

لاہور،31مارچ  (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب کی سینئر ایڈوائزر سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کےلئے ٹھوس  اقدامات بروئے کار لا رہی ہے، پائیدار ترقی کےلئے فرنٹیئر ٹیکنالوجی کو اپنانا ناگزیرہے،  صوبے کے 50 لاکھ طلبہ کو فر نٹئیر ٹیکنالوجیز پر ٹریننگ فراہم کی جائے گی، وزیر اعلی ٰمریم نواز آئی ٹی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے دن رات کوشاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز آئی ٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی  ظہیر حسن، صدر نیشنل انکیوبیشن سنٹر لاہور (این آئی سی ایل) ایوب غوری،  پراجیکٹ ڈائریکٹر این آئی سی ایل آغا عبد الرحمٰن اور  پرنسپل ایڈوائزر این آئی سی ایل سعد طارق موجود تھے جبکہ مختلف آئی ٹی انڈسٹریز کے سربراہان  جن میں جیز کیش، ہوائی  اور وینچر کیپٹیل فنڈز کے سربراہان بھی  شامل تھے۔اجلاس میں فرنٹیئر ٹیکنالوجی  ، انکیوبیشن سینٹرز  اور   ڈیجیٹل سکل ڈویلپمنٹ سمیت دیگر آئی ٹی سیکٹر میں ترقیاتی منصوبوں کے پراجیکٹس اور مختلف تجاویز و عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد حکومت،  انڈسٹری ، اکیڈمیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پنجاب کی آئی ٹی پالیسی پر  کام کرنا اور  گول سیٹ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا اس حوالے سے  پی سی ون تیار کئے گئے ہیں تاکہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد شعبہ  آئی ٹی کے مینڈیٹ کو پورا کیا جاسکے ، یہ پی سی ون منظوری کے لیے جلد وفاقی پلاننگ ڈویژن کو ارسال کئے  جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت، زراعت، انفراسٹرکچر  اور توانائی  سمیت دیگر  شعبوں میں فرنٹئیر ٹیکنالوجیز  کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں فرنٹیئر ٹیکنالوجی کو  اپنانا کسی بھی ملک کے لیے پائیدار ترقی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے  ناگزیر ہو چکا ہے، ہمیں بھی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ،  ای کامرس، فِن ٹیک اور ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے معیشت کو فروغ دینا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی رینکنگ فرنٹئیر ٹیکنالوجیز انڈیکس میں بہتری مانگتی ہے  اور  آگے جاتے ہوئے پنجاب آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا فوکس جدید اور ابھرتی ہوئی فرنٹیئر ٹیکنالوجی کی رینکنگ میں بہتری لانے کی طرف ہو گا جس کے لیے  انڈسٹری ، اکیڈمیہ اور حکومت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فارماسوٹیکل، بائیو ٹیک، انڈسٹری اور ایس ایم ایز سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیجٹیلائز کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔انوشہ رحمان نے کہا کہ آن لائن ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے ،  عام کسٹمر اشیا خریدتے وقت تو ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن ہر ٹیکس ایف بی آر کو وصول نہیں ہو پاتا جس کے لیے ہمیں کیش لیس سسٹم کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے کسٹمر کو  آگاہی اور چیمبرز کو آن بورڈ کیا جائے گا تاکہ کیش لیس سسٹم کو فروغ دیا جا سکے ۔سینئر ایڈوائزر سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہوا ہے، اب جلد  پنجاب میں ڈیجیٹل اکانومی اتھارٹی بھی بن رہی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ ٹیچرز ٹریننگ کے لیے مختلف  انٹرنیشنل یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبہ پنجاب حکومت کی آئی ٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی پالیسی کا اہم حصہ ہے، اس  میں ملکی اور غیر ملکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، وزیر اعلیٰ  اس  منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے کوشاں ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پنجاب آئی ٹی میں جدت اور سرمایہ کاری کا مرکز  بن رہا ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے نوجوان اور آئی ٹی سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے صوبائی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔قبل ازیں فرنٹیئر ٹیکنالوجیز اور جدت پر ڈسکشن سیشن منعقد ہوا جس میں شرکا نے معاشی ترقی میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیجیٹل تبدیلی کے کردار، پالیسی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیااور تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون کو تکنیکی ترقی کے لیے کلیدی قرار دیا۔سٹیک ہولڈرز نے پائیدار جدت کے لیے تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے، پنجاب میں آئی ٹی سیکٹر کے فروغ اور جدت پر مبنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے،ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی سفارشات پر بھی غور کیا۔